خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 44 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 44

خطبات ناصر جلد اول ۴۴ خطبہ جمعہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ء کے طبقات بنادئے ہیں تا کہ ہم اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے ہر قسم کی نیکیاں کرتے چلے جائیں۔اگر ہر شخص اتنا امیر ہوتا کہ اس کو دنیا کی کوئی ضرورت پیش ہی نہ آتی۔اگر ہر شخص اتنا عالم ہوتا کہ کسی استاد کے پاس جانے کی اسے ضرورت ہی نہ رہتی اور اگر ہر شخص ہر فن میں اتنا کمال رکھتا کہ ڈسٹری بیوشن آف لیبر جس پر ہماری انسانی اقتصادیات کی بنیاد ہے کی ضرورت ہی پیدا نہ ہوتی۔وغیرہ۔تو ثواب کا کون سا موقع باقی رہ جاتا؟؟؟ اللہ تعالیٰ بے شک اس بات پر قادر ہے کہ ہر انسان کو ایسا بنا دے لیکن اس نے اسے ایسا نہیں بنایا۔اس لئے کہ اس نے انسان کے لئے صرف اسی دنیا کی زندگی ہی نہیں بلکہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی بھی مقدر کی ہوئی ہے اور اُخروی زندگی کے پیش نظر ایسا معاشرہ انسان کے لئے مقرر فرمایا کہ ہر طبقہ کے لوگ اس معاشرہ کے اندر رہ کر زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرتے چلے جائیں اور اس طرح اس کی خوشنودی کو پوری طرح پاسکیں لیکن کا فرلوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے اس لئے جب ان کو کہا جاتا ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرو اور محتاجوں کے لئے روزمرہ زندگی کی ضروریات مہیا کرو تو وہ کہتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے انہیں کھانے کو نہیں دیا تو تم ہم سے کیسے توقع رکھتے ہو کہ ہم خدائی فعل کے خلاف ان کو کھانے کے لئے دیں۔ان کا کافرانہ دماغ عجیب بہانہ تراشتا ہے۔میرا یہ احساس ہے کہ جماعت کو اس حکم کی طرف پوری طرح توجہ نہیں ہے۔کوئی احمدی رات کو بھوکا نہیں سونا چاہیے۔سب سے پہلے یہ ذمہ داری افراد پر عائد ہوتی ہے اس کے بعد جماعتی تنظیم اور حکومت کی باری آتی ہے کیونکہ سب سے پہلے یہ ذمہ داری اس ماحول پر پڑتی ہے جس ماحول میں وہ محتاج اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہے۔پھر ہماری جماعت کی تنظیم کے مطابق بڑے شہروں میں پریذیڈنٹ ہیں ، امراء ہیں پھر شہر مختلف محلوں اور حلقوں میں تقسیم ہوتے ہیں جن میں ہمارے کارکن مقرر ہوتے ہیں۔اتنے کارکنان کی موجودگی میں آپ میں سے ہر احمدی رات کو اس اطمینان کے ساتھ سوتا ہے کہ اس کا کوئی بھائی آج بھوکا نہیں سو رہا۔یا وہ بغیر سوچے سمجھے یہ تصور کر لیتا ہے کہ اس کے سب بھائیوں نے کھانا کھا لیا ہوگا۔