خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 582
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۸۲ خطبہ جمعہ ۱۰ / فروری ۱۹۶۷ء کہ عام طور پر بھی خدا تعالیٰ کے مال کا کوئی پیسہ ضائع نہیں ہونا چاہیے صرف جان بوجھ کر ہی نہیں بلکہ غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں بھی جو ضیاع ہوتے ہیں ان سے بھی بچنا چاہیے لیکن موجودہ حالات میں تو خصوصاً کھانے پینے کی چیزوں کو ضیاع سے بچانا اشد ضروری ہے اور میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ اگر ہم نے اس طرف توجہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ ہمارے رزق سے برکت کو واپس لے لے گا۔جس کا میں نے اپنے خطبہ میں اظہار بھی کیا تھا اور اس کے بعد دعا ئیں بھی بڑی ہی کی تھیں کہ ہم میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ ہو کہ جو اپنی غفلت یا کوتا ہی یا سستی یا بے پرواہی کے نتیجہ میں ان برکتوں کو ضائع کر بیٹھے جو اللہ تعالیٰ نے ایک احمدی کے رزق میں رکھی ہیں اللہ تعالیٰ نے بڑا ہی فضل کیا آپ بھائیوں کے ذریعہ سے خصوصاً اور باہر سے آنے والے دوستوں کے ذریعہ سے عموماً خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے بے حد اور بے انتہا مسرت پہنچائی۔جب جلسہ سالانہ کے بعد یہ رپورٹ ملی کہ امسال دوستوں نے خوردونوش کو ضیاع سے بچانے کا جو خیال رکھا ہے وہ غیر معمولی ہے اور بڑا نمایاں ہے اس کو دیکھ کر دل خدا کی حمد سے بھر گیا کہ اس کی توفیق کے بغیر نہ کوئی فرد، نہ کوئی جماعت نیکی کے کوئی کام کر سکتی ہے نہ نیکی کی راہوں کو اختیار کر سکتی ہے۔اس کے علاوہ بعض اور باتیں بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل پر ایک نمایاں شہادت پیش کر رہی ہیں مثلاً یہ کہ جلسہ سالانہ رمضان کی وجہ سے اپنی مقررہ تاریخوں پر نہیں ہوا۔یعنی ان تاریخوں پر جس کی جماعت کو عادت پڑ چکی تھی رمضان کی وجہ سے ہم نے اس سال جلسہ سالانہ کو ان تاریخوں سے بدل کر پیچھے کیا ( گذشتہ سال پہلے ہوا تھا ) اس سال قریباً ایک ماہ بعد جلسہ ہوا اس کا نتیجہ یہ تھا کہ جلسہ سے معاً پہلے عید کے اخراجات بھی کرنے پڑے کیونکہ عید کی خوشیوں میں ان بچوں کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے جو بلوغت کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حقیقی خوشی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور دلوں کو سکینت بخشتی ہے لیکن ایک خوشی کا ماحول ان ناسمجھ بچوں کے لئے پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے دماغ عید کے ساتھ خوشیوں کو ہمیشہ دیکھنے کے عادی ہو جائیں یا عادی رہیں۔پس عید کی وجہ سے بھی زیادہ خرچ ہوئے۔دوسرے یہ کہ غذائی قلت کے نتیجہ میں کھانے پینے کی چیزوں پر معمول سے بہت زیادہ خرچ آج کل کرنا پڑ رہا