خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 581 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 581

خطبات ناصر جلد اول ۵۸۱ خطبہ جمعہ ۱۰ / فروری ۱۹۶۷ء جلسہ سالانہ کے ایام میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے بڑے ہی انوار و برکات کا مشاہدہ کیا ہے خطبه جمعه فرموده ۱۰ / فروری ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔دوست جانتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے بعد مجھے بڑا شدید انفلوائنزا کا حملہ ہوا تھا۔پہلے دودن اس تکلیف میں باوجود بخار اور شدید نزلہ اور کھانسی کے میں کام کرتا رہا اور کثرت سے ملاقاتیں اس خیال سے کرتا رہا کہ باہر سے دوست تشریف لائے ہوئے ہیں اگر میں نہ ملا تو ان کو بڑی جذباتی تکلیف اٹھانی پڑے گی لیکن دو دن کے بعد جسم نے جب جواب دے دیا تو مجھے بستر میں لیٹنا پڑا اور اس کے بعد کافی بیماری کی تکلیف رہی۔گذشتہ جمعہ بھی دل تو چاہتا تھا کہ میں خود یہاں آ کر حمد کے ان جذبات کا اظہار کرتا جن جذبات نے میرے وجود کو کلیۂ گھیرا ہوا تھا اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو دیکھ کر لیکن بیماری کی وجہ سے میں یہاں نہ آسکا۔آج بھی گو کافی تکلیف ابھی باقی ہے لیکن بیماری کی شدت ٹوٹ چکی ہے میں نے مناسب سمجھا کہ میں خود آؤں خواہ چند منٹ کے لئے ہی اپنے جذبات کا اظہار اپنے بھائیوں کے سامنے کروں۔جیسا کہ میں نے ایک فقرہ گذشتہ جمعہ لکھ کر بھجوا دیا تھا کہ دل خدا کی حمد سے معمور ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جلسہ سالانہ سے قبل میں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اس طرف متوجہ کیا تھا