خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 573 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 573

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۷۳ خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۶۷ء اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے کہ جب ہم تمہیں دینے لگے تھے۔تو ہم نے اس بات کا خیال رکھا تھا کہ تمہاری ضرورتیں (جو بھی ہیں ) پوری کرتے چلے جائیں۔ہماری عطا اس رنگ کو اختیار کرے ہماری عطا ء اس شکل میں ہو کہ تمہاری طاقت اور استعداد اور قوت کی وجہ سے تمہاری جو ضرورتیں بھی ہوں۔( جن کے بغیر تم ترقی نہیں کر سکتے ) ان کا خیال رکھا جائے اس لئے تم اب ان لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھو جنہیں اب تم دے رہے ہو۔اس وقت مثلاً سب سے بڑی ضرورت ہمارے بھائیوں کی ”کھانا“ ہے کیونکہ ہمارے۔ملک میں غذا کی قلت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور رزق کے ان معنوں کے رو سے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں رزق دیا تھا تو اس نے ہماری ساری ضروریات کا خیال رکھا تھا جب ہم اپنے بھائی کی مدد کو آئیں گے تو ہم اس کی ساری ضرورتوں کا خیال رکھیں گے جس طرح ایک دینے والا کسی کو گرمیوں میں گرم کپڑے اور سردیوں میں مکمل نہیں دیا کرتا کیونکہ گرم کپڑے کی ضرورت سردیوں میں ہوتی ہے اور ململ کی ضرورت گرمیوں میں ہوتی ہے اسی طرح جب ان دنوں میں کوئی اپنے بھائی کی مدد کو آئے گا تو وہ اسے کھانا مہیا کرے گا کیونکہ اس وقت اس چیز کی اسے ضرورت ہے۔یہ ایک موٹی مثال ہے۔جو میں نے اس وقت دی ہے اور ہر نظمند انسان ایسی باتوں کا خیال رکھتا ہے لیکن بعض باتیں باریک ہوتی ہیں انسان کی توجہ ان کی طرف نہیں ہوتی اس لئے ان کی طرف خلیفہ وقت کو توجہ دلانی پڑتی ہے اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ انفاق فی سبیل اللہ کی بہترین شکل یہ ہے کہ ان اخراجات کے بعد جو ہم اشاعتِ اسلام کے سلسلہ میں کرتے ہیں۔ہم اپنے بھائیوں کی بھوک کو دور کریں۔چونکہ روح کی حفاظت بہر حال جسمانی حفاظت سے پہلے ہے وہ جسمانی حفاظت سے ارفع اور اعلیٰ ہے اس لئے اس کی طرف سب سے پہلے توجہ دینا ضروری ہے۔اشاعتِ اسلام اس معنی میں ضروری ہے کہ ہم یہ نہیں چاہتے کہ بنی نوع انسان خدا تعالیٰ کے غضب کے مورد ہو کر اس کی بھڑکتی ہوئی جہنم کے اندر دھکیل دیئے جائیں۔اس کے بعد جہاں تک اس دنیا کی ضرورتوں کا سوال ہے جہاں تک اپنے بھائیوں کی ضرورتوں کو پورا کر کے اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول کا سوال ہے بھوکوں کو کھانا کھلانا اس وقت سب سے اہم ہے۔کیونکہ اغذیہ