خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 570
خطبات ناصر جلد اول ۵۷۰ خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۶۷ء مجھے ان اعمال بد کے برے نتائج سے بچالے۔تم میں سے بہت سے اپنے اعمال کے برے نتائج دیکھ کر سوچ رہے ہوں گے کہ اگر تمام دنیا اور اس کی تمام چیزیں میرے پاس ہوتیں تو آج میں اپنے رب سے یہ سودا کرتا کہ ساری دنیا اور اس دنیا کی تمام چیزیں تو مجھ سے لے لے اور مجھے اس سزا سے بچالے جو مجھے اس وقت نظر آ رہی ہے کہ میرے گناہوں اور بدیوں اور برائیوں اور خطاؤں کے نتیجہ میں مجھے ملنے والی ہے۔تم میں سے بعض اس سوچ میں ہوں گے کہ اگر دنیا و مافیہا ہی نہیں بلکہ اتنی ہی اور چیزیں بھی ہمارے پاس ہوتیں تو ہم اپنے رب کے حضور اس سودا کی پیشکش کرتے کہ اے خدا یہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزیں اور اتنی ہی اور ہم سے لے لے لیکن ہمیں اپنے اس قہر کی نگاہ سے بچالے۔جو تیری آنکھوں میں ہمیں چھلکتا نظر آ رہا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دن کسی بیچ کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر تمہارے پاس یہ سب کچھ ہوتا بھی تب بھی تم خدا کے قہر سے اس دن بچ نہیں سکتے۔ولا خلل وہ دن ایسا بھی ہے کہ اس دنیا میں غلط راہ پر چلانے والے دوست اپنی دوستیاں چھوڑ جائیں گے شیطان جس کا کام ہی خدا کے بندوں کو گمراہ کرنا ہے وہ ایک کو نہ میں دبکا بیٹھا ہوگا اس کو اپنی فکر پڑی ہوئی ہوگی۔اس وقت وہ اپنے چیلوں ( اولیاء الشیطن ) کی طرف توجہ نہیں دے سکے گا اور وہ غلط قسم کے مذہبی راہ نما جو بعض دفعہ اس دنیا میں کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے جنت میں جانے کی ذمہ داری لیتے ہیں تم یہ کام کر دو ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور وہ اپنے منہ سے شفاعت کا ایک لفظ بھی نکالنے کی جرات نہیں کر رہے ہوں گے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا ایک دن تم نے دیکھنا ہے لا بَيْعٌ فِیهِ وَلَا خلل اس دن نہ تو کوئی سودا ہو سکے گا اور نہ کسی کی دوستی کام آسکے گی وہ دن تو ایسا ہے جب خدا تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے جب خدا تعالیٰ جو قا در حقیقی ہے جب خدا تعالیٰ جو رفعتوں اور عظمتوں کا مالک ہے اور جبروت حقیقی طور پر اس کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اس کی صفات کے جلوے اس میدانِ حشر میں اس طرح جلوہ فگن ہو رہے ہوں گے کہ انسان تو انسان فرشتے بھی لرز رہے ہوں گے۔ہر ایک کو نظر آ رہا ہوگا کہ آج ہم اپنے مالک حقیقی رب کے سامنے پیش ہیں۔ہماری نجات کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ وہ ہمیں بخش دے وہ ہمیں اپنی رحمت