خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 564
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۶۴ خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء یہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے اس طرف توجہ نہ دی۔اگر آپ نے اس بات کا خیال نہ رکھا اور غفلت مجرمانہ کے نتیجہ میں یا جان بوجھ کر آپ نے ہماری کوئی روٹی یا سالن کی کوئی بوٹی ضائع کر دی تو آئندہ سارا سال آپ کو غذائی قلت اور تکلیف میں گزارنا پڑے گا۔پس خدائی رحمتوں سے اپنے کو اور اپنے خاندانوں کو محروم نہ کریں بلکہ پوری کوشش کریں کہ جماعتی روٹی جو آسمان سے فرشتے لے کر آئے وہ ضائع نہ ہو۔بلکہ اس کے لقمہ لقمہ ذرہ ذرہ کی حفاظت کی جائے اور اس کا صحیح استعمال کیا جائے۔کیونکہ اس روٹی کے ہر ذرہ میں آسمان کی ایک برکت ہے اور کون بے وقوف ہے جو آسمانی برکتوں کو ضائع کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔پس اس بات کا خاص طور پر خیال رکھیں یہ قلت اور مہنگائی کا زمانہ ہے اس زمانہ میں ہم پر بڑا ہی اہم فرض یہ عائد ہوتا ہے کہ ہر قسم کے ضیاع سے بچیں اور جماعتی پیسہ کو بچائیں اور ذرہ ذرہ کی حفاظت کریں اس سلسلہ میں میں اس طرف بھی احباب ربوہ کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہاں چونکہ امن کا ماحول ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور شفقت سے اور بڑی کثرت سے ملتے ہیں۔کثرت کے ساتھ ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں گویا ایک ہی برادری ہے جو یہاں بس رہی ہے۔اس فضا سے غلط فائدہ اٹھا کر بعض چور قسم کی عورتیں اور مرد باہر کے دیہات سے یہاں آ جاتے ہیں اور آرام سے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں اور چوری کر کے چلے جاتے ہیں یا درکھیں مومن حسنِ ظن تو رکھتا ہے لیکن وہ بیوقوف نہیں ہوتا اور کسی بھی شر سے مغلوب نہیں ہوتا۔اگر شر ہم پر غالب آجائے تو ہم پر الزام آئے گا کہ خدا نے تمہیں ایمان دیا، تقویٰ دیا، اپنے قرب کی باریک را ہیں تم پر کھولیں، فراست دی، ذہانت اور عقل دی پھر بھی ایک چور جانگلن تمہارے گھر میں آکر چوری کر کے لے جاتی ہے اور تمہیں خبر تک نہیں ہوتی۔اس گندے ماحول میں ہمارے بعض بچوں کو بھی اپنی نا سمجھی کی وجہ سے یہ عادت پڑ گئی ہے کہ مسجد میں سے جوتی وغیرہ اُٹھا کر لے گئے۔( مردوں والے حصہ میں سے یا عورتوں والے حصہ میں سے) اگرچہ چودہ پندرہ ہزار کی آبادی میں دو یا چار ایسے کا ہونا جماعت پر کوئی الزام ثابت