خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 550 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 550

خطبات ناصر جلد اوّل خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء اس ذمہ داری کو اپنے سامنے رکھیں جتنے روپے کی ہمیں ضرورت ہے وہ مہیا کریں اور بطور معلمین جتنے آدمیوں کی ہمیں ضرورت ہے ہمیں دیں اور مخلص واقف دیں۔خدا تعالیٰ کی محبت رکھنے والے اور اس کی خاطر تکالیف برداشت کرنے والے، اس کے عشق میں سرشار ہو کر اس کے نام کو بلند کرنے والے مسیح موعود علیہ السلام پر حقیقی ایمان لانے کے بعد اور آپ کے مقام کو پوری طرح سمجھنے کے بعد جو ایک احمدی کے دل میں ایک تڑپ پیدا ہونی چاہیے کہ تمام احمدی اس روحانی مقام تک پہنچیں جس مقام تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام انہیں لے جانا چاہتے تھے۔اس تڑپ والے واقفین ہمیں وقف جدید میں چاہئیں۔تو ایک تو وقف جدید کے چندوں کی طرف متوجہ ہوں۔دوسرے وقف جدید کے لئے جتنے اور جس قسم کے احمدیوں کی ضرورت ہے۔بطور معلم کے وہ آدمی اتنی تعداد میں مہیا کرنے کی کوشش کریں۔ہماری جماعت میں سے سو آدمی کا مہیا ہو جانا کوئی مشکل نہیں ہے۔بشرطیکہ ہم اس طرف توجہ کریں۔بعض جماعتوں کے عہدیداروں نے جیسا کہ رپورٹوں سے پتہ لگتا ہے جماعتوں کو بتایا ہی نہیں کہ مرکز سے کیا آواز اٹھ رہی ہے، کیا مطالبہ ہو رہا ہے اور کیا ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں اور اس کے مقابلہ پر اللہ تعالیٰ کی کس قدر اور کس شان کے ساتھ رحمتیں نازل ہو رہی ہیں۔ایسی جماعت کے دوست نیم بیہوشی کی سی حالت میں یہ سمجھتے ہیں (ایمان تو ہے۔ایمان کی چنگاری تو سلگ رہی ہے ) کہ ہم اسی طرف چل رہے ہیں جس طرف ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلانا چاہتے تھے۔مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہم اس رفتار سے نہیں چل رہے جس رفتار سے مسیح موعود علیہ السلام ہمیں چلانا چاہتے تھے۔نہ اس بشاشت کے ساتھ ان راہوں پر چل رہے ہیں۔نہ اتنے اخلاص کے ساتھ ان راہوں پر چل رہے ہیں۔نہ اتنی قربانیوں کے ساتھ ان راہوں پر چل رہے ہیں جس بشاشت جس اخلاص اور جن قربانیوں کا ہمارا بیعت کا عہد ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔پس چست ہونے کی ضرورت ہے اخلاص میں برتر ہونے کی ضرورت ہے۔قربانیوں میں تیز تر ہونے کی ضرورت ہے۔جس مقصد کے لئے ہمیں قائم کیا گیا اور زندہ کیا گیا اور منظم کیا گیا ہے اس مقصد کے قریب تر ہونے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اپنی ذمہ داریوں