خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 547
خطبات ناصر جلد اول ۵۴۷ خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۶ء اے خدا! ہم نے کچھ نیک کام کئے تھے ان کی جزا ہمیں دے۔اس کے ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص خدا کی راہ میں اعمالِ صالحہ بجالانے سے گریز کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں بغیر کسی عمل کے اس کی خوشنودی کو حاصل کرلوں گا وہ بھی غلطی پر ہے وہ بھی خدا کو ناراض کرنے والا ہے۔تو درمیانہ راستہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ اعمال میں کوتاہی نہ کرو اور نیک اعمال بجالانے میں غفلت نہ برتو جس حد تک ممکن ہو سکے دن اور رات اعمالِ صالحہ بجالاتے ہوئے اپنی زندگی کی گھڑیوں کو گزار ولیکن اس کے ساتھ ہی یہ نہ سمجھو کہ تم اپنے عمل کے نتیجہ میں کچھ بن گئے۔یا تمہارے عمل کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ تم سے خوش ہو جائے گا اور راضی ہو جائے گا کیونکہ تم نہیں کہہ سکتے کہ تمہارے اعمال میں ریاء کے، تمہارے اعمال میں تکبر کے ، تمہارے اعمال میں خود نمائی اور خود پسندی کے ، تمہارے اعمال میں دوسروں کے لئے حقارت کے ایسے جراثیم نہیں پائے جاتے جو خدا کو ناراض کر دیتے ہیں۔پس عمل کرو عمل کرو اور عمل کرو لیکن سب کچھ کرنے کے بعد یہ سمجھو کہ تم خالی ہاتھ اور تہی دست ہو۔جب تک خدا کی مغفرت جب تک خدا کی رحمت تمہیں حاصل نہ ہو تم خدا کے قہر اور اس کے غضب اور اس کی لعنت سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔تو میں آج اپنے دوستوں سے کہوں گا کہ اے میرے پیارے بھائیو! یہ مہینہ رحمتوں کے لٹانے کا ہے خدا آسمان سے زمین پر اس لئے آیا ہے کہ اس کے بندے اس کے سامنے جھولیاں پھیلائیں اور اس کی رحمت کو اس کی مغفرت کو ، اس کے فضلوں کو ، اس کی برکتوں کو اور اس کی رضا کو پائیں۔اس کی خوشنودی حاصل کریں۔اس کے نور سے اپنے سینہ و دل کو منور کریں۔پس اس مہینہ سے جتنا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہو ا ٹھاؤ۔اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی جتنی رضا تم پاسکتے ہو۔اس کے پانے کی کوشش کرو۔اپنے دنوں کو بھی اپنی راتوں کو بھی ایسے دن اور ایسی راتیں بناؤ کہ جو دن اور جو راتیں تمہارے خدا کو محبوب بن جائیں۔پھر عاجزی کے ساتھ دعائیں کرتے رہو کہ اے خدا ان کاموں کی ہمیں توفیق دے جن کے نتیجہ میں تو خوش ہو جائے اور