خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 38
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۸ خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء مسیح محمدی کی طرف اور جماعت احمدیہ کی طرف پھیر رہے ہیں۔پس ایسے حالات پیدا ہور ہے ہیں کہ دنیا کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ احمدیت اور اسلام ایک ایسی صداقت ہے کہ جو انہیں اپنی بقا کی خاطر ہر قیمت پر قبول کرنی چاہیے۔پھر تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کے ذریعہ اور حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر کے ذریعہ ایسے دلائل مل چکے ہیں کہ دنیا کی کوئی عقل انہیں رد نہیں کر سکتی۔جب تمہیں ہر قسم کے نشان اور دلائل دے دیئے گئے ہیں تو گویا کامیابی کی کنجی اور فتح کی کلید تمہارے ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے اس لئے تمہیں ہرگز ضرورت نہیں کہ کسی کو خوشامد ، لالچ یا جبر کے ذریعہ مسلمان بناؤ۔تو وَلَا تَمنُ تَسْتَكْثِرُ میں آزادی مذہب کو، آزادی فکر کو، اس خوبی اور حسن کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے اور اس کو قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔فرمایا۔احسان کرنا اس نیت سے کہ کوئی شخص ہمارے احسان کے دباؤ سے لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ پڑھ لے جائز نہیں۔اسی طرح جبر کرنا بھی جائز نہیں کہ ایسے حالات پیدا کر دئے جائیں کہ کسی شخص کو سوائے کلمہ پڑھنے کے کوئی جائے فرار نظر نہ آتی ہو جیسا کہ آج کل کی خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں نے کشمیر میں مسلمانوں کو شدھ کرنے کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ہر قسم کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔خاوندوں کو قتل کر کے عورتوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔بچوں کو شہید کر کے والدین کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ ہندو مذہب کو اختیا ر کر لیں۔اسلام اسے ہرگز پسند نہیں کرتا بلکہ اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اسلام اس کی مذمت کرتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو خدا کے غضب اور قہر کا مورد قرار دیتا ہے۔تو فرماتا ہے ولا تمنن کہ کسی پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا۔اس غرض سے کہ تمہاری تعداد بڑھ جائے اور تمہیں کثرت حاصل ہو جائے۔وَلِرَتِكَ فَاصْبِرُ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے جماعت احمد یہ ! ہم ایسے حالات پیدا کرنے والے ہیں کہ تم ظالموں سے انتقام لینے کے قابل ہو جاؤ گے لیکن ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ انتقام بھی نہ لینا اور يرتكَ فَاصْبِرُ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صبر سے کام لینا۔