خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 516
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۱۶ خطبہ جمعہ ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء دینے والی ، بڑا کام کرنے والی جماعت ہے اور جتنا آپ اے میرے بھائیو! پیار کرتے ہیں اور کہا مانتے ہیں اسے دیکھ کر میرے جیسا انسان تو انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے دل چاہتا ہے کہ انسان سجدہ میں ہی پڑا رہے۔یہی ایک جماعت ہے جس نے دنیا میں انقلاب عظیم بر پا کرنا ہے۔پس باہمی تصادم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔بعض دفعہ مقامی طور پر بعض عہد یدار کمزوری دکھاتے ہیں۔حالانکہ جس قوم کے اوپر اللہ تعالیٰ نے خود اپنے فعل اور فضل کے نتیجہ میں ایک امام اور خلیفہ مقرر کر دیا ہو اس کے عہدیدار کو کمزوری دکھانے کا کوئی مطلب ہی نہیں اور کمزوری دکھانے سے میرا مطلب یہ نہیں کہ وہ سختی نہیں کرتے۔میرا مطلب ” کمزوری دکھانے سے یہ ہے کہ بعض دفعہ وہ وقت سے پہلے سختی شروع کر دیتے ہیں۔جس شخص کو طاقت حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہمت دے تو وہ وقت سے پہلے ایسا کام نہیں کرتا۔کوئی چیز اس کو گھبراہٹ میں نہیں ڈالتی اس کو پتہ ہوتا ہے کہ جب کسی نے کوئی غلطی کی تو اس کی اصلاح ہو جائے گی یا مجھ سے ہو جائے گی یا مرکز سے ہو جائے گی۔پس ایک تو ہمت اور اعتماد کی ضرورت ہے۔دوسرے یہ کہ الہی سلسلوں میں سارے کام بشاشت سے ہونے چاہئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص کے دل میں بشاشت ایمان پیدا ہو جائے۔اسے شیطانی حملوں کا خطرہ اور خوف باقی نہیں رہتا اگر اتنی قربانی کرنے والے لوگ بھی بشاش نہ ہوں تو آپ عہدیداروں کا قصور ہے۔ان کے ساتھ اس قدر محبت اور پیار کا سلوک کرو کہ ان کے دل بشاشت ایمانی سے بھر جائیں اور خدا اور اس کے رسول اور اس کے مذہب اور دین کے لئے محبت کا ایک سمندر ان کے دلوں میں موجزن ہو جائے۔میں ایک آپ جیسا ہی معمولی انسان تھا اور ہوں۔بڑا ہی کمزور بڑا ہی بے مایہ !!! لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا تو اس وقت ایک سیکنڈ کے اندر اس نے میرے دل کی حالت بالکل بدل دی۔کئی تھے جن سے شکوے بھی تھے۔رنجشیں بھی تھیں ، جن سے اپنے خیال میں دکھ بھی اٹھائے ہوئے تھے۔لیکن یہ سب چیزیں ایک سیکنڈ کے اندر بلکہ ایک سکینڈ کے ہزارویں حصہ