خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 515
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۱۵ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء بڑی مضبوطی سے قائم کیا ہوا ہے اور یہ اس کی دین اور فضل ہے کہ خلیفۂ وقت کا فیصلہ بشاشت سے قبول کیا جاتا ہے۔مثلاً ایک قصبہ ہے۔وہاں جماعت کی کچھ زمین تھی۔وہاں ایک مسجد تعمیر ہوئی مگر ایک حصہ زمین تعمیر مسجد سے باہر رہ گیا جو چند مرلوں کا تھا اسے وہاں کی مقامی جماعت نے با قاعدہ ریز و لیوشن کر کے ایک شخص کے پاس ساٹھ ستر روپے میں فروخت کر دیا۔اس واقعہ کو دس بارہ سال ہو چکے تھے۔چند ماہ ہوئے مجھے اس بات کا علم ہوا۔میں نے اس شخص کو جس کے پاس یہ حصہ زمین فروخت کیا گیا تھا کہا کہ نہ بیچنے والے کو بیچنے کا حق اور نہ خریدنے والے کو خریدنے کا حق۔جو پیسے تم نے دیئے تھے وہ واپس لے لو اور زمین خالی کر دو کہ یہ تمہاری زمین نہیں ہے۔کہنے لگا بارہ سال ہو گئے ہیں۔میں نے کہا کہ بارہ صدیاں ہو جائیں، کیا فرق پڑتا ہے؟ وقت گزرنے کے ساتھ غیر حق حق تو نہیں بن جاتا۔تو کہنے لگا میں نے وہاں کمرہ بنا یا ہوا ہے جس پر چار سو روپیہ خرچ ہوا ہے۔میں نے کہا تم بلا اجازت کسی کی زمین پر مکان بنا لو تو اس کا میں ذمہ دار ہوں؟ تم ملبہ اٹھوا لو۔خیر وہ وہاں سے گیا۔دو چار روز تک اس کے دل میں انقباض رہا لیکن جب میں نے اسے دوبارہ کہلا کے بھیجا تو اس نے ملبہ اٹھوالیا اور زمین ہمارے حوالے کر کے اپنے پیسے وصول کر لئے میری نیت پہلے ہی تھی کہ اس کا نقصان ذاتی طور پر پورا کر دوں گا۔لیکن میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ نظام کی پابندی کرتا ہے یا نہیں۔خلیفہ وقت کا کہنا مانتا ہے یا نہیں اور اس کا ایمان کس حد تک مضبوط ہے۔پس نیت تو پہلے ہی تھی کہ جو اس کا نقصان ہے وہ میں اس کو دے دوں گا اس لئے میں نے اسے خط لکھا کہ میری نیست تو یہ تھی لیکن میں تمہیں ثواب سے محروم نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لئے میں نے پہلے اس کا اظہار نہ کیا تھا۔اب تم مجھے لکھو کہ تمہارا کتنا نقصان ہوا ہے۔کچھ تو تم نے ملبہ کی صورت میں اٹھا لیا ہے باقی جو تمہارا روپیہ رہ گیا ہے وہ میں تمہیں بھیج دیتا ہوں۔لیکن اس کے اندر ایمان کا جذبہ تھا وہ جوش میں آیا اور اس نے مجھے لکھا کہ میں آپ سے روپیہ کیوں لوں؟ میں نے خدا کی خاطر ملبہ اٹھایا ہے۔بے شک بعض منافق بھی ہوتے ہیں اور بعض کمزور ایمان والے بھی ہوتے ہیں۔لیکن بحیثیت مجموعی یہ جماعت بڑی عجیب ہے!!! میں ذاتی طور پر اس کا تجربہ رکھتا ہوں۔بڑی قربانیاں