خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 501 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 501

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۰۱ خطبہ جمعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء دعائیں نہ کی ہوں گی اور اس کو یہ بھی توفیق دے گا کہ آپ کی تکلیفوں کو دور کرنے کے لئے ہر قسم کی تکلیف وہ خود برداشت کرے اور بشاشت سے کرے اور آپ پر احسان جتائے بغیر کرے کیونکہ وہ خدا کا نوکر ہے آپ کا نوکر نہیں ہے اور خدا کا نوکر خدا کی رضا کے لئے ہی کام کرتا ہے۔کسی پر احسان رکھنے کے لئے کام نہیں کرتا لیکن اس کا یہ حال اور اس کا یہ فعل اس بات کی علامت نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی کمزوری ہے اور آپ اس کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔وہ کمزور نہیں ، خدا کے لئے اس کی گردن اور کمر ضرور جھکی ہوئی ہے۔لیکن خدا کی طاقت کے بل بوتے پر وہ کام کرتا ہے۔ایک یا دو آدمیوں کا سوال ہی نہیں میں نے بتایا ہے کہ ساری دنیا بھی مقابلہ میں آجائے تو اس کی نظر میں کوئی چیز نہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کے ابتداء میں جب عظیم فتنہ نے سراٹھایا اور اس لشکر کے بھجوانے یا نہ بھیجوانے کا سوال پیدا ہوا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ مدینہ کی گلیوں میں مسلمان بچوں اور عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں تو بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ضرور جاری ہوگا۔انہوں نے ایسا اس لئے کہا اور اس لئے کیا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا ایسا جلوہ ظاہر ہو چکا تھا کہ ساری دنیا ان کے لئے مردہ کی حیثیت رکھتی تھی۔اصل زندگی تو اللہ تعالیٰ کی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی دین اور عطا کے نتیجہ میں اصلی زندگی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آپ کی عزت آپ کی عظمت اور جو آپ نے فیصلے فرمائے ہیں۔ان کا قیام اہم ہے اس کے لئے ساری دنیا مر جائے ،سارے مسلمانوں کو قربان ہونا پڑے تو ہو جائیں۔لیکن جو کچھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔غنا کا جذ بہ بھی اللہ تعالیٰ ہی اپنے عاجز بندوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے۔جس طرح خدا تعالیٰ غنی ہے۔ان کو بھی وہ غنی بنا دیتا ہے نہ پیسے کی پرواہ اور محبت اور نہ ہی دنیا کی کسی وجاہت کی محبت ان کے دل میں باقی رہتی ہے وہ تو اپنے وجود سے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔تو کہیں غلطی کر کے کوئی شخص نقصان نہ اٹھائے !!! کوئی یہ نہ سمجھے کہ شاید یہ فروتنی اور عاجزی