خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 502

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۰۲ خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۶۶ء کہیں کمزوری کا نتیجہ ہے۔کمزوری کہیں نہیں ، کمزوری تو اس شخص میں ہو جس کی اپنی کوئی طاقت بھی ہو۔جس کی اپنی کوئی طاقت ہی نہیں اس کی کمزوری کیسی !! اُس نے جو کچھ بھی لیا ہے، اُس نے جو کچھ بھی لینا ہے بہر حال آسمان سے لینا ہے اور آسمانی طاقت کے مقابلہ میں آپ زمین کی کون سی طاقت کو لا کر کھڑا کر دیں گے!!! پس اپنے خدا سے ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی کے دن گزاریں اور سلسلہ عالیہ احمد یہ جو نظام بھی قائم کرتا ہے اس کی پابندی کو اپنی خوش قسمتی سمجھیں کیونکہ اس میں برکت ہے۔یہ برکت محض زبانی دعوی نہیں خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت ہمیں بتا رہی ہے کہ اسی میں برکت ہے۔۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کے لئے آپ نے کتنے پیسے دیئے تھے؟ ایک لاکھ!!! جتنے روپے آپ نے پہلے سال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دیئے تھے اس سے کہیں زیادہ آدمی اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی گود میں لا ڈالے ہیں۔پس جو فرائض ہیں وہ ادا کرتے چلے جائیں جو خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں وہ آپ کے حق میں پورے ہوتے چلے جائیں گے۔خدا تعالیٰ کے سامنے اباء و استکبار اور بغاوت اور فسوق کا طریقہ ہر گز اختیار نہ کریں اور نہ ہی اس کے سلسلہ کے سامنے۔بڑے بڑے تعلی کرنے والے پیدا ہوئے۔خدا تعالیٰ کے قہر نے انہیں مسل کر رکھ دیا اور ان کا نام و نشان مٹادیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ بڑا لمبا تھا۔بیرونی فتنے تو تھے ہی وقفہ وقفہ کے بعد اندرونی فتنے بھی سر اٹھاتے رہے لیکن وہ فتنہ پرداز کہاں ہیں؟ اور جماعت کا قدم کہاں تک جا پہنچا ہے کبھی دیکھا تو کرو!!! وہ نا کامی و نامرادی کے اندھیروں میں گم ہو گئے اور جماعت کے قدم آسمان فتح و نصرت کے ستاروں پر پڑنے لگ گئے۔تو خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر زندگی کے دن گزاریں اور جو ذمہ داریاں آپ پر بحیثیت ایک احمدی کے عائد ہوتی ہیں۔انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔ہمیشہ دعا کرتے رہیں کہ اے خدا! ہم سے غفلت ہو جائے تو معاف کر دے اور ہمیں خود اپنے فضل سے توفیق دے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ نبھا سکیں۔کیونکہ اگر تو اپنے فضل سے ہمیں توفیق نہ دے گا۔تو ہم میں