خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 498
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۹۸ خطبہ جمعہ ۱۸/نومبر ۱۹۶۶ء انتظام کریں گے۔یہ صحیح ہے کہ بعض جماعتیں کھانے کے لئے مجبور کر دیتی ہیں۔وقف عارضی کے متعلق بار بار سمجھایا گیا ہے لیکن پھر بھی واقفین عارضی لکھتے ہیں کہ جماعتیں بہت مجبور کرتی ہیں کہ ہم ان کا پیش کردہ کھانا ضرور کھائیں ورنہ ہمارا ناک کٹ جائے گا۔حالانکہ ہمارے واقفین عارضی کو بنیادی ہدایت یہی ہے کہ جہاں جاؤ ان کا کھانا نہ کھانا اپنے کھانے کا خود انتظام کرنا۔اگر اس قسم کے حالات مربی کو پیش آئیں اور وہ مجبور ہو جائے تو جب تک ہم جماعت کی ذہنیت کو بدل نہ دیں ایسی مجبوری کے سامنے اسے سر جھکانا پڑے گا۔لیکن مربی کے احترام اور عزت کے مقام کا بہر حال آپ کو خیال رکھنا پڑے گا۔بعض جگہ مربی جاتا ہے تو وہاں کے دولت مند یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ذلیل آدمی آ گیا ہے حالانکہ جس شخص نے اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر رکھی ہو۔جس شخص نے ایک لمبے عرصہ تک خدا کے دین کو سیکھا ہو، تا بنی نوع انسان کو روحانی فائدہ پہنچا سکے اور جس نے بہت کم گزارے پر دین کے لئے زندگی گزارنے کا اپنے رب سے عہد کیا ہو۔وہ شخص جب آپ کے پاس آتا ہے تو گویا رب العزۃ کے در کا غلام آتا ہے۔سب عزتیں تو خدا کی ہیں اور جو خدا کے در کا فقیر بن گیا، اس سے زیادہ معزز اور کون ہو سکتا ہے۔لیکن بعض پیسے والے دنیا دار، دنیا کی عزت رکھنے والے یا با عزت پیسے والے مثلاً ڈاکٹری ایک ایسا پیشہ ہے کہ بڑوں بڑوں کو اس کی وجہ سے ڈاکٹر کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔وزیر اس کے واقف ہوتے ہیں ڈپٹی کمشنر واقف ہوتے ہیں اور اور بہت سے لوگ ان کے واقف ہوتے ہیں وغیرھم اگر یہ سمجھیں کہ ان کی عزت اتنی بڑی ہے کہ انہیں جماعت میں مربی سے زیادہ باعزت سمجھا جانا چاہیے اور انہیں مربی کو وہ عزت دینے اور اس کا احترام کرنے کی ضرورت نہیں جو اس کا حق ہے۔تو اس سے زیادہ بیوقوفی کا مظاہرہ اور کیا ہو گا ؟ کیونکہ عزت تو خدا کے در سے ملتی ہے اور جو خدا کا ہو گیا ساری عزتیں اس کی گود میں ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کون معزز ہوگا ؟ تو یہ تین نظام مستقل طور پر چل رہے ہیں۔چوکس رہنا چاہیے کہ کبھی ان میں تصادم نہ ہو۔کیونکہ جب تصادم ہوگا تو کوئی نہ کوئی ضرور تکلیف اٹھائے گا۔صدرانجمن احمدیہ کے پاس شکایت