خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 497
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۹۷ خطبہ جمعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء جواب دہ ہو لیکن جواب دہ ہو صرف ان کاموں کے متعلق جو فارم کی بہبود کے لئے کرتے ہو۔جن چیزوں اور کاموں کا تعلق اسٹیٹ سے نہیں ہے بلکہ جماعتی نظام سے ہے۔ان کے متعلق تم مرکز کے سامنے جواب دہ نہیں۔جن چیزوں کا تعلق نظام جماعت سے ہے ایک واقف زندگی سے خواہ وہ مینجر ہو یا ایجنٹ ، ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ جماعتی نظام کو دوسروں کی نسبت زیادہ بشاشت کے ساتھ قبول کرے گا اور باقی سب کے لئے نمونہ بنے گا۔دونوطرف سے غلطیاں ہو جاتی ہیں امیر ضلع یہ سمجھتا ہے کہ میں یہاں بھی دخل دے سکتا ہوں کیونکہ میں امیر ضلع ہوں اور جو مینجر یا ایجنٹ ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں انچارج ہوں اس سارے علاقے کا ( فارم کا ) اور جواب دہ ہوں مرکز کے سامنے اس لئے امیر ضلع کے سامنے جواب دہ نہیں۔حالانکہ جماعتی کاموں کے متعلق اس کو بہر حال جماعتی نظام کے عہدیدار کے سامنے جواب دینا پڑے گا۔تیسرا نظام وہ ہے جو اسٹیٹ کے نظام سے بھی مختلف ہے اور جماعتی نظام (جو امراء اور پریذیڈنٹوں والا نظام ہے ) اس سے بھی مختلف ہے اور وہ ہے ہمارا اصلاح وارشاد کا نظام جومر بی کہیں جاتا ہے وہ کسی امیر کے ماتحت نہیں ہوتا ہے نہ کسی ایجنٹ کے ماتحت ہوتا ہے مربی نمائندہ ہے مرکز کا اور خلیفہ وقت کا۔بہت سے امراء نے جو اپنے آپ کو دنیوی لحاظ سے زیادہ اثر و رسوخ والا اور مالدار سمجھتے ہیں بعض دفعہ مربیوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا ہے جو نہیں کرنا چاہیے تھا۔اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے انہیں سختی سے ڈانٹا اور اصلاح کی تم اگر لاکھ روپیہ یا دولاکھ یا پانچ لاکھ روپیہ سالانہ کماتے ہو تو اپنے گھر میں امیر ہو گے۔مربی مرکز کا نمائندہ ہے تمہیں بہر حال اس کے سامنے جھکنا پڑے گا خواہ تم بڑی جماعت کے ہی امیر کیوں نہ ہو۔مربی امراء سے آزاد ہیں۔مربیوں کے متعلق آپ کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ آپ ان کو زردہ یا پلاؤ یا دیگر قسم کے عمدہ کھانے کھلائیں ، قطعاً نہیں۔بلکہ میں اپنے مربیوں سے توقع رکھتا ہوں کہ سوائے اس کے کہ وہ مجبور کر دیئے جائیں حتی الوسع اس جیب خرچ یا سفر خرچ سے جو انہیں ملتا ہے اپنے کھانے کا خود