خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 496
خطبات ناصر جلد اول ۴۹۶ خطبہ جمعہ ۱۸؍ نومبر ۱۹۶۶ء خدمت کرنے کے لئے تمہارا خیال رکھنے کے لئے تمہاری تکلیف دور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہر ہاری اتنی بشاشت سے رہے گا کہ آپ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔لیکن جو لوگ مزارع اور کام کرنے والے ہیں میں ان سے بھی کہوں گا کہ اگر تو آپ نے گندم بو کر گندم ہی لینی ہے تو دنیا میں اور بہت سی زمینیں پڑی ہوئی ہیں آپ وہاں جا کر گندم بوئیں اور زمینیں آباد کر لیں۔لیکن اگر آپ نے گندم بوکر صرف گندم ہی نہیں کاٹنی ہے بلکہ گندم کے ساتھ ساتھ خدا کے فضلوں کو بھی سمیٹنا ہے اور اپنے کوٹھوں کو گندم کے ساتھ ساتھ خدا کے فضلوں سے بھی بھرنا ہے تو پھر آپ کی ذمہ داریاں عام باریوں سے زیادہ ہیں۔آپ کو زیادہ دیانتداری سے، آپ کو زیادہ محبت سے، آپ کو زیادہ شوق سے کام کرتے ہوئے۔زیادہ دعاؤں سے کام لینا پڑے گا۔اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو احمدی ہاریوں اور دوسرے باریوں میں کیا فرق رہے گا ؟ پھر یہ جو فارم کا نظام ہے اس کے ساتھ دو اور نظام لگے ہوئے ہیں اور بعض دفعہ ان کا آپس میں تصادم ہو جاتا ہے۔حالانکہ یہ تصادم نہیں ہونا چاہیے۔اس کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے۔ایک جماعتی نظام ہے یہاں امیر مقامی ہوتا ہے ( اور بہت جگہ میں نے دیکھا ہے کہ فارم کا مینجر اور ہے اور جماعت کا پریذیڈنٹ یا امیر اور ہے ) پھر ضلع کا امیر ہوتا ہے۔پھر علاقہ کا امیر ہوتا ہے۔بعض دفعہ ضلع یا علاقہ کا امیر یہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ میں ضلع کا امیر ہوں اور یہ احمد یوں یا جماعت کی فار میں ہیں اس لئے میرا حق ہے کہ میں ان میں دخل دوں حالانکہ اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ فارم کے انتظام میں دخل دے، تعلق ہی کوئی نہیں ہے، امیر مقامی یا امیر ضلع یا امیر علاقائی کا کہ وہ فارم کے کاموں میں دخل دے۔اس کی ساری ذمہ داری مینیجر پر، یا اگر اس کے اوپر ایجنٹ ہے تو ان پر ہے اور مرکز کے سامنے وہی جوابدہ ہیں امیر ضلع یا امیر علاقائی جواب دہ نہیں۔دوسری طرف بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ فارم کا مینجر یا ایجنٹ سمجھتا ہے کہ میں واقف زندگی ہوں اور میں نے ساری عمر سلسلہ کے لئے وقف کی ہوئی ہے اس لئے میں جماعتی نظام سے بھی آزاد ہوں۔کیونکہ میں خود مرکز کے سامنے جواب دہ ہوں۔یہ تو ٹھیک ہے کہ تم مرکز کے سامنے