خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 472
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۷۲ خطبہ جمعہ ۱۱ار نومبر ۱۹۶۶ء پہلی چیز یہ ہے کہ اسلام جس خدا سے ہمارا تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے وہ زندہ خدا ہے۔آپ نے دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کی کہ دوسری سب اقوام اور اسلام کے دوسرے سب فرقے اس وقت خدا تعالیٰ کو زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا نہیں سمجھتے۔لمبی داستان ہے کن کن کی کون کون سی بات بتائی جائے جس سے یہ واضح ہو کہ سارے لوگ ہی زندہ خدا کو چھوڑ چکے تھے۔وہ بوسیدہ ہڈیوں کے گرد جمع ہو گئے تھے۔روحانیت جاتی رہی تھی۔جو ظاہری علوم تھے ان میں بھی کوئی کمال حاصل نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دلائل کے ساتھ اور قوتِ قدسیہ کے نتیجہ میں ہمارے سامنے زندہ خدا کو پیش کیا اور ہمارے رب نے محض اپنے فضل سے ہزاروں احمدیوں کو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیا۔وہ معجزات اور وہ قادرانہ امور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سامنے پیش کئے۔ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے جیسا کہ خود آپ نے اپنی کتب میں بیان فرمایا ہے لیکن وہ معجزات جو ہمارے پیارے رب نے محض اپنے پیار اور فضل کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کو بحیثیت جماعت اور مختلف افراد جماعت کو بحیثیت افراد دیئے۔وہ ( معجزات ) بھی لاکھوں سے کم نہیں۔ہماری فرقان بٹالین جب کشمیر کے محاذ پر تھی۔اللہ تعالیٰ نے جماعتی لحاظ سے وہاں اتنے معجزے دکھائے کہ اگر ان کو اکٹھا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ان معجزات پر مشتمل لکھی جاسکتی ہے۔پھر جو لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ابتدائی تاریخ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ چونکہ آپ ہر وقت عبادت اور ذکر میں مشغول رہتے تھے اور آپ کا خاندان چونکہ بڑا ہی دنیا دار تھا۔خاندان کے لوگ سمجھتے تھے کہ ہمارا یہ لڑکا ( مسیح موعود علیہ السلام ) کسی کام کا نہیں۔نہ اس میں جائیدا دسنبھالنے کی قابلیت ہے اور نہ خاندانوں کی عزت اور ترقی اس کے ساتھ وابستہ ہوگی۔وہ دنیا دار تھے اس لئے دنیوی خیالات کے تیر چلا رہے تھے۔ان کو کیا پتہ تھا کہ یہ بچہ کہاں تک پہنچنے والا ہے۔آپ ہر وقت ذکر الہی ، نمازوں اور دوسرے نیک کاموں میں مشغول رہتے تھے۔قادیان میں بھی بہت کم لوگ آپ سے واقف تھے۔ضلع گورداسپور میں جو چھوٹا سا ضلع تھا