خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 467 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 467

خطبات ناصر جلد اول ۴۶۷ خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۶۶ء زنده خدا، زندہ رسول اور زندہ کتاب سے ہمیں حضرت مسیح موعود نے متعارف کیا خطبه جمعه فرموده ۱۱ نومبر ۱۹۶۶ء بمقام بشیر آباد۔سندھ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ہم نے جس ہستی کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی اور سلسلہ احمدیہ کو قبول کیا وہ کوئی معمولی ہستی نہیں تھی بلکہ اس کا مقام وہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے روحانی فرزندوں میں سے صرف اس کو اپنا سلام بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ یہ بات تمام دنیا پر ظاہر کی کہ جو شخص ہمارے اس مرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں فرق کرے گا۔اس شخص نے اس مقام کو نہیں پہچانا۔جس مقام پر کہ اللہ تعالیٰ نے فنافی الرسول ہو جانے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں گم ہو جانے کی وجہ سے اس پاک وجود کو کھڑا کیا ہے۔پھر یہ صرف اعزازی مقام نہ تھا بلکہ حقیقتاً یہ مقام آپ کو اس وجہ سے ملا ( اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لئے تو فیق عطا فرمائی کہ آپ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عشق میں فنا ہو کر اپنے وجود کو کلیتاً غائب کر دیں) کہ اللہ تعالیٰ آپ سے وہ کام لینا چاہتا تھا جو اسلام کی نشاۃ اولی میں اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا تھا۔قرآن کریم سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور پیشگوئیوں سے ہمیں یہ