خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 461
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۶۱ خطبہ جمعہ ۴ /نومبر ۱۹۶۶ء میں جو ان کا مال لگا ہوا تھا وہ اس کے علاوہ تھا) وہ اسلام پر خرچ کرتے رہے اور جب ہجرت کا وقت آیا تو چالیس ہزار اشرفیوں میں سے صرف پانچ سو اشرفی ان کے پاس باقی تھی۔انتالیس ہزار پانچ سو اشرفی وہ خرچ کر چکے تھے۔یہ پانچ سو اشرفیاں بھی انہوں نے اپنے گھر والوں کے لئے نہیں چھوڑیں بلکہ ہجرت کے وقت وہ بھی ساتھ اُٹھا لیں تا کہ دین کی راہ میں ہی خرچ ہوں۔تو انہوں نے بڑی مالی قربانیاں دی ہیں۔دوست یہ نہ سمجھیں کہ ہم وصیت میں ۱۰ را دے کر یا بعض دوسرے چندوں کو ملا لیا جائے تو ۱/۸ یا ۷ /ا دے کر ایسی قربانی دے رہے ہیں کہ گویا ہم صحابہ رضی اللہ عنہم سے آگے نکل گئے۔یا ان کے برابر کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ صحابہ میں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے تھے جو بہر حال ۱٫۵ سے زیادہ قربانی دے رہے تھے مثلاً انصار کو ہی دیکھیں انہوں نے آدھے آدھے مال مہاجرین کو پیش کر دئے تھے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ مہاجرین میں سے بہتوں نے نہیں لئے۔جنہوں نے لئے بھی۔قرض کے طور پر لئے لیکن انصار کی طرف سے پیش کش ہو گئی تھی کہ تم سب کچھ چھوڑ کر آئے ہو۔آؤ یہ مال بانٹ لیں اور آدھا آدھا کر لیں۔اللہ تعالیٰ نے ان مہاجرین کو عقل دی تھی۔وہ تجارت کے میدان میں بڑا کچھ کماتے تھے۔پھر اس نے انہیں ایمان بھی دیا تھا اس لئے وہ دین کی راہ میں خرچ بھی بڑا کرتے تھے۔اس حد تک کہ میں نے بتایا ہے کہ اگر ان روایات کے راوی ثقہ نہ ہوں تو ہم شاید ان کو محض قصہ سمجھیں لیکن تاریخ اس کثرت سے ان باتوں کی تائید کر رہی ہے کہ ہماری عقل انہیں جھٹلا نہیں سکتی۔تو جہاں تک اموال کی قربانی کا تعلق ہے۔صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور جہاں تک مالی قربانیوں کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو بھی تو فیق دی ہے کہ اس لامذہبیت اور دہریت کے زمانہ میں اپنے اموال کو بے دریغ خرچ کرے اور ایک حصہ جماعت کا اور بڑا حصہ صحابۂ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے اپنے وقت میں ایسی روحانی تربیت حاصل کر چکا تھا کہ ان کی جانی اور مالی قربانیاں صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی مشابہ ہوگئی تھیں کہ ان کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی اور گروہ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔بعد کی جو نسلیں ہیں ان میں بھی بڑی حد تک خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ