خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 458

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۵۸ خطبه جمعه ۴/ نومبر ۱۹۶۶ء ہمیشہ اس طرف متوجہ ہوں کہ جس طرح ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل ہوتے رہیں اور وہ ہم سے خوش ہو جائے۔اسی طرح وہ لوگ بھی جو ہمارے اہل میں شمار ہوتے ہیں۔ان کے متعلق بھی ہماری یہ خواہش ہونی چاہیے کہ ان پر بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم نازل ہو اور اس زندگی میں (جس کے متعلق ہمیں بہت کم علم دیا گیا ہے اور جہاں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک لحظہ کی ناراضگی ایسی ہے کہ اس دنیا کی ہزاروں زندگیوں کی خوشیاں اس ناراضگی سے بچنے کے لئے قربان کی جاسکتی ہیں) وہ لوگ ( بیوی بچے اور دوسرے رشتہ دار ) جو یہاں ہمارے اہل کہلاتے ہیں۔وہاں بھی ہمارے ساتھ ہی رہیں اور خاندان روحانی طور پر بکھر نہ جائے اور منتشر نہ ہونے پائے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحريم : ) که اے وہ لوگو! جو ایمان کا دعوی کرتے ہو جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہا ہے۔یا درکھو کہ صرف اپنے نفس کو روحانی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرنے کی ہی ذمہ داری تم پر عائد نہیں ہوتی۔بلکہ تم پر یہ بھی فرض کیا گیا ہے کہ جہاں تم اپنے نفسوں کو خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے قہر اور اس کے غضب کی آگ سے بچاؤ۔وہاں اپنے اہل کو بھی اور ان لوگوں کو بھی جو تمہارے رشتہ دار ہیں ( بیوی بچے ہیں ) خدا تعالیٰ کے قہر کی آگ سے بچاؤ۔دوسری جگہ فرمایا۔قُلْ إِنَّ الْخَسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَ أَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ (الزمر : ۱۶) حقیقی طور پر گھاٹا پانے والے وہی لوگ ہیں جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ اور ان کے اہل گھاٹا پانے والے قرار دیئے جائیں۔دیکھو ما ئیں اور بعض دفعہ باپ اور دوسرے رشتہ دار بھی چند دنوں یا چند مہینوں یا چند سالوں کی جدائی اپنے بچوں سے برداشت نہیں کر سکتے۔بہت سے بچے غیر ملکوں کی اعلی تعلیم سے اس لئے محروم ہو جاتے ہیں کہ ان کی مائیں یا دوسرے عزیز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ چند سال کے لئے وہ اپنے اس عزیز سے جدا ہوں۔بہت سے بچے اس لئے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں کہ جہاں وہ پیدا ہوئے اور جہاں وہ پہلے اور بڑھے اور جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی وہاں کوئی کالج نہیں تھا اور ماں باپ نے پسند نہ کیا کہ وہ اپنے بچے کو اپنے سے جدا کر کے کسی ایسے بڑے شہر میں