خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 459
خطبات ناصر جلد اول ۴۵۹ خطبه جمعه ۴/ نومبر ۱۹۶۶ء بھجوا سمیں جہاں کالج موجود ہے۔تو اس دنیا میں بعض دفعہ تو ہم غیر معقول رویہ اختیار کر کے بھی اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں اور ان کی جدائی ہم پر بہت شاق گزرتی ہے تو وہ دنیا جس کے عذاب کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اتنا لمبا ہے کہ اس پر ہمیشہ رہنے والے عذاب“ کا فقرہ چسپاں ہوسکتا ہے۔اس میں ہم کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ ہمارے بچے ، ہمارے اہل اور ہمارے دوسرے رشتہ دار ہم سے جدا ہوں۔اگر چہ پورے طور پر تو یہ درست نہیں بلکہ قرآن کریم کی دوسری آیات کے خلاف ہے کہ جہنم کا عذاب ہمیشہ ہمیش تک چلتا چلا جائے گا لیکن اس کے زمانہ کی لمبائی اور وسعت کو بیان کرنے کے لئے قرآن کریم خُلِدِین کا لفظ استعمال کرتا ہے۔تو ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ایک معنی کے لحاظ سے ہمارے بچے اس دنیا میں ابد الآباد تک ہم سے جدار ہیں جبکہ ہم یہاں چند گھڑیوں یا چند دنوں یا چند مہینوں یا چند سالوں کی جدائی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اصل گھاٹا پانے والے تو وہ ہیں جو اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ اپنے خاندان کو جس طرح جسمانی طور پر یہاں اکٹھا کئے ہوئے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان میں انتشار اور تفرقہ پیدا ہو اور وہ بگڑ جائیں۔اسی طرح ان کا خاندان دوسری دنیا ( اُخروی زندگی ) میں بھی منتشر نہ ہو جائے۔چونکہ وہ ایسی کوشش نہیں کرتے اس لئے حقیقی معنی میں یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ وہ گھاٹا پانے والے ہیں۔اسی لئے اسلام نے مختلف پہلوؤں سے اس بات کی تلقین کی ہے کہ اپنے بچوں کی پہلے دن سے ہی تربیت شروع کر دی جائے۔دراصل پیدائش سے پہلے بھی جب بچہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے۔بعض لحاظ سے اور بعض طریقوں سے اس کی تربیت کی جاتی ہے۔بچے کی پیدائش پر نیک کلمات اس کے دائیں کان میں بھی اور اس کے بائیں کان میں بھی کہے جاتے ہیں اور اس طرح ہمیں اس راستہ پر لگایا جاتا ہے کہ بچوں کے سامنے ہمیشہ نیکی کی اور ہمیشہ عدل کی اور