خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 457
خطبات ناصر جلد اول ۴۵۷ خطبه جمعه ۴/ نومبر ۱۹۶۶ء میں چاہتا ہوں کہ وقف جدید کا مالی بوجھ ے بچے اور بچیاں اُٹھا لیں ( خطبه جمعه فرموده ۴ /نومبر ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اس میں شک نہیں کہ دینی معاملات میں سب سے پہلاحق انسان پر اس کے اپنے نفس کا ہی ہے اور ہر نفس انسانی کو ہمیشہ اس طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ وہ ایسے اعمال بجالا تا رہے کہ ان کی وجہ سے اس کا رب راضی ہو جائے اور وہ اپنے اللہ کی خوشنودی حاصل کر لے۔اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَضُرُّكُم مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المائدة: ۱۰۶) کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہدایت یافتہ سمجھے جاؤ تو تمہیں دوسروں کا گمراہ ہو جانا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔یعنی اگر با وجودا اپنی دلی تڑپ اور اپنی انتہائی کوشش اور جدوجہد کے وہ لوگ جنہیں تم ہدایت کی طرف بلا ؤ اور اس بات کی تلقین کرو کہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قرآن کریم کے جوئے کے نیچے اپنی گردنیں رکھ دیں۔پھر بھی وہ ایسا نہ کریں اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیں تو ان کا ایسا کرنا تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ اس کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو نیکی اور تقویٰ پر قائم رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں اور