خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 456
خطبات ناصر جلد اول ۴۵۶ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء ملے جو ان تمام چیزوں اور تعلقات سے کہیں زیادہ احسن اور لذت والا ہے۔یہی لذت جو مجھے مل چکی ہے میرے تخیل سے باہر ہے جو اور مزید ملے گا پھر وہ کتنا شاندار ہوگا تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ ہر سال جماعت کو پہلے سے زیادہ قربانیوں کی توفیق دیتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس ا فضل کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو بلکہ خدا تعالیٰ کے شاکر بندے بننے کی کوشش کرو تا اس شکر کے نتیجہ میں مزید قربانیوں کی توفیق پا کر مزید فضلوں کے وارث بنتے چلے جاؤ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔دوسرے خطبہ میں فرمایا۔گو مجھے سخت کمزوری ہے لیکن کام نہ کرنا میرے جیسے آدمی کے لئے عذاب ہے کہ آپ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔چنانچہ بیماری کے دنوں میں بھی (جب مجھے سخت گھبراہٹ ہوتی تھی اس خیال سے کہ میں کام نہیں کر رہا ) مجھے سات آٹھ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا کیونکہ سات آٹھ گھنٹے کام کرنے سے طبیعت سیر نہیں ہوتی۔اگر آدمی خدا تعالیٰ کے لئے چودہ پندرہ گھنٹے کام کرے تو پھر کچھ طبیعت میں سیری محسوس ہوتی ہے لیکن بیماری کی وجہ سے آدمی اتنا کام نہیں کرسکتا تو یہ بھی میرے لئے ایک قسم کا ابتلا ہے اس لئے میں یہ امید کرتا ہوں کہ آپ دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ مجھے صحت سے کام کرنے کی توفیق عطا کرے تا کہ اپنی طبیعت بھی سیر ہو جائے اور خدا تعالیٰ بھی خوش ہو جائے کیونکہ خالی اپنی طبیعت کا سیر ہو جانا بے معنی ہے اگر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی وہ رضا حاصل نہ ہو جس کے حصول کی انسان خواہش رکھتا اور کوشش کرتا ہے ایک جنازہ ہے وہ میں مغرب کے بعد پڑھاؤں گا۔میں اس بھائی سے (جو جنازہ لایا ہے) معذرت چاہتا ہوں۔کیونکہ اگر اب جنازہ پڑھا گیا تو ہماری بہنوں کا راستہ رک جائے گا اور پھر اجتماع میں بھی دیر ہو جائے گی۔تو اس جنازے کو کسی ٹھنڈی جگہ محفوظ کریں۔انشاء اللہ مغرب کی نماز کے بعد جنازہ پڑھا دوں گا۔روز نامه الفضل ربوہ یکم دسمبر ۱۹۶۶ ء صفحه ۲ تا ۷ )