خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 455 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 455

خطبات ناصر جلد اول ۴۵۵ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء پچھلے سال ہماری مستورات نے تحریک جدید کا چندہ نہیں بلکہ تحریک جدید کی ایک شق کا چندہ ( یعنی مسجد ڈنمارک کا چندہ) تین لاکھ چھ ہزار روپیہ نقد جمع کر دیا۔اس طرح یہ چندہ تحریک جدید کے پہلے سال کے چندہ سے تین گنا زیادہ جمع ہوا۔حالانکہ یہ چندہ صرف ہماری بہنوں نے جمع کیا۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِكَ۔گویا تحریک جدید کے پہلے سال میں ساری جماعت مردوں، عورتوں اور بچوں نے مل کر بھی ایک لاکھ کی رقم پوری نہ کی تھی۔( دو ہزار کم تھے ) اور گذشتہ سال ڈنمارک کی مسجد کے لئے صرف ہماری بہنوں نے تین لاکھ چھ ہزار کی رقم جمع کر دی تو جب انسان خدا کی راہ میں قربانی دیتا ہے اور خدا تعالیٰ اسے قبول کر لیتا ہے۔تو اسے مزید قربانی کی توفیق بخشتا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ اپنے ایک بندہ کو دس روپیہ انعام دیتا ہے اور وہ اس دس روپیہ میں سے کچھ اس کی راہ میں قربان کر دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو مزید توفیق بخشتا ہے۔تا وہ ہدایت کے راستوں پر اور آگے بڑھے۔پھر وہ اور آگے بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دس روپے کی بجائے ایک ہزار روپے انعام دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میرا بندہ ایک ہزار روپیہ لینے کے لئے تو پیدا نہیں کیا گیا یہ تو ایسے انعام کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دنیا کی عقل اس کا اندازہ نہیں کر سکتی۔کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، کسی زبان نے نہیں چکھا، کسی کے خیال میں بھی یہ انعامی چیزیں نہیں گزرتیں۔اس لئے میں اسے اور آگے بڑھنے کی توفیق دیتا ہوں۔پھر وہ بڑی بشاشت سے اور زیادہ قربانی خدا کی راہ میں پیش کرتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپیہا سے انعام دیتا ہے۔پھر ایک کروڑ پھر ارب۔یہ گنتی ختم ہونے والی نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے انعام ختم ہونے والے نہیں۔اس طرح وہ بندہ انعام پر انعام حاصل کئے جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے توفیق پر توفیق پاتا چلا جاتا ہے۔مزید مجاہدہ اور مزید قربانی کرنے کی۔تب اسے سمجھ آتی ہے کہ دنیا کیا اور دنیا کی لذتیں اور آرام کیا اگر ایسے انعام جو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل رہے ہیں ملتے چلے جائیں تو میں اپنی ہر چیز ، اپنے گھر بار، اولا د اور رشتے دار قربان کرنے کے لئے تیار ہوں تا کہ مجھے وہ کچھ