خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 449 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 449

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۴۹ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء اس قسم کا سلوک اکثر کیا جاتا ہے۔ایسے لوگوں پر خدا کے لئے دنیا کی تمام راہیں اگر بند ہو جائیں تو قرآنی محاورہ کے مطابق وہ اُحْصِرُوا فِی سَبِیلِ اللہ کے گروہ میں شامل ہوتے ہیں۔دوسری قسم مجاہدہ کی انفاق فی سَبِیلِ اللهِ ہے۔جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ دنیا میں نے تمہیں دی ہے۔چاہو تو دنیا کا ایک حصہ خرچ کر کے مجھے حاصل کرلو میری محبت کو پالو اور اگر چاہو تو دنیا کے کیڑے بن کر میری لعنت، میرے غضب اور میرے قہر کے مورد بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں انفاق پر بڑا زور دیا ہے انفاق فی سبیل اللہ کی کوئی حد بندی نہیں البتہ انفاق کی بعض قسموں کی حد بندیاں ہیں۔مثلاً زکوۃ ایک خاص شرح کے مطابق دی جاتی ہے لیکن عام صدقات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کوئی شرح مقرر نہیں فرمائی۔اسی طرح اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کے دین کی تقویت کے لئے حسب ضرورت جو اموال مانگے جائیں ان کے لئے کوئی شرح مقرر نہیں ہر آدمی پر فرض ہے کہ وہ اپنی ہمت کے مطابق اور حالات کی نزاکت کے مطابق خدا کی راہ میں اپنے مال کا جتنا حصہ وہ مناسب سمجھتا ہے خرچ کرے۔جیسا کہ ایک وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ ارشاد فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے دین کو تمہارے مالوں کی ضرورت ہے۔تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اندازہ لگایا کہ یہ موقع اتنا نازک ہے کہ میرا فرض ہے کہ میں اپنا سارا مال لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ڈال دوں مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اندازہ لگایا کہ اتنا نازک وقت تو نہیں۔لیکن بہر حال اتنا نازک ضرور ہے کہ مجھے نصف مال خدا کی راہ میں دے دینا چاہیے۔تو ہر شخص اپنی اپنی استطاعت اور قوت اور استعداد کے مطابق اور اپنے اپنے مقام ایمان کے مطابق اندازہ لگا کر ایسے موقعوں پر خدا کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کرتا ہے۔لیکن کوئی خاص حد بندی مقرر نہیں۔جیسا کہ تحریک جدید کے چندوں کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کوئی حد بندی مقرر نہیں کی۔لیکن اس خواہش کا ضرور اظہار کیا ہے کہ ایک مہینہ کی آمد کا ۱/۵ سالانہ دیا کرو تا کہ سلسلہ کی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں۔بعض لوگ اب بھی اس سے زیادہ دیتے ہیں۔