خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 450
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۵۰ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء اور بعض ایسے ہیں جو ۱/۵ بھی نہیں دیتے ۱۰ ر ا دیتے ہیں ۱۵ را دیتے ہیں یا ۲۰ /ا دیتے ہیں۔مجاہدہ کی ایک شکل جو قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ قتال فی سَبِیلِ اللهِ ہے۔یعنی جب دشمن زور بازو سے اسلام کو مٹانا چاہے اور مادی ہتھیار لے کر اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو باوجود اس کے کہ وہ اپنے دشمن کے مقابلہ میں بہت کمزور ہوتے ہیں، دفاع کی اجازت دیتا ہے اور پھر حکم دیتا ہے کہ ضرور دفاع کرو۔اور یہ حکم اس لئے دیتا ہے تا کہ کمزوروں کی کمزوری ظاہر ہو جائے۔اگر صرف اجازت ہو تو بعض کہیں گے کہ سب کو لڑائی میں جانا تو ضروری نہیں ہے۔اور پھر اس وقت اپنی زندہ طاقتوں اور زندہ قدرتوں کا ایک نمونہ دنیا کو دکھاتا ہے کہ دیکھو مومن تھوڑے بھی تھے، کمزور بھی تھے ، غریب بھی تھے پھر ان کے پاس ہتھیار بھی نہیں تھے باوجود اس کے جب وہ ہمارے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ہمارے اور اپنے دشمن کے مقابلہ پر آ گئے۔تو انہیں فتح نصیب ہوئی۔اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کا معجزانہ رنگ میں اظہار فرماتا ہے۔اس کے علاوہ مجاہدہ کی ایک شکل ہمیں قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے۔وَلَبِن قُتِلْتُم في سَبِيلِ اللهِ أَوْ مُثْمُ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللهِ وَرَحْمَةٌ (ال عمران :۱۵۸) یہاں صرف قتل کئے جانے کا ذکر ہے۔ضروری نہیں کہ جنگ میں قتل ہو۔اگر آپ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مسلمان صرف میدانِ جنگ میں ہی شہید نہیں کئے گئے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر ہزاروں لاکھوں مسلمان ایسا ہے جسے میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ امن کی حالت میں کافروں نے بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔جیسا کہ ہماری تاریخ میں صاحبزادہ صاحب عبد اللطیف شہید کو کابل میں پکڑا گیا۔وہ بے گناہ، بے بس اور کمزور تھے۔حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔حکومت نے خدا تعالیٰ کے فرمان کے خلاف، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لیتے ہوئے ان کو پکڑا اور قتل کر دیا اور بڑی بے دردی سے قتل کیا۔تو ایک شکل مجاہدہ یا جہاد فی سبیل اللہ کی یہ ہے کہ انسان ایسے وقت میں اپنی جان قربان کر