خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 444
خطبات ناصر جلد اول ۴۴۴ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء وہ لوگ جو استقلال کے ساتھ نیکیوں پر مداومت اختیار کرتے ہیں۔ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتے اور اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔پھر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مومنوں پر شفقت کرنے والے ہیں ( ہر مومن تمام دوسرے مومنوں کے آگے بچھتا چلا جاتا ہے) یہ وہ لوگ ہیں آعِزَّةٍ عَلَى الكَفِرِينَ جو کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں۔جب کافر اچھے لوہے کی تلوار میں لے کر ان کے مقابلہ پر آتے ہیں تو ان کی ٹوٹی ہوئی خراب اور نا قابل اعتبار لوہے کی بنی ہوئیں تلوار میں بھی ان کافروں کی تلواروں کے مقابلہ میں محض خدا تعالیٰ کے فضل سے عملاً سخت نظر آتی ہیں۔کیونکہ ان کی کاٹ زیادہ نظر آتی ہے۔اسی طرح جب یہ لوگ دلائل حقہ کے ساتھ کافروں کے باطل عقائد اور ان باطل عقائد کے حق میں باطل دلائل کا مقابلہ کرتے ہیں تو ان کے منہ بند کر دیتے ہیں اور جب کافر لوگ مختلف قسم کی رسوم اور بدعات کے ذریعہ اور مختلف قسم کی لالچ دے کر ان کو راہ صداقت سے ہٹانا چاہتے ہیں تو یہ لوگ ان کا اثر قبول نہیں کرتے (آعِزّة عَلَى الْكَفِرِينَ ) فرما یا کہ ہم جو ایسے گروہ سے محبت کا سلوک کرتے ہیں تو اسی لئے کہ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللہ۔یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی پوری طاقت اور پوری قوت اور اپنے پورے وسائل اور تمام تدابیر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اس کے راستہ میں مجاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں۔وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لابھ اور کسی موقع پر بھی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف ان کے دل میں پیدا نہیں ہوتا وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ ہماری برادری کیا کہے گی وہ صرف یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا رب کیا کہے گا۔ان کے دلوں میں یہ خوف پیدا نہیں ہوتا کہ جس ماحول میں ہم رہ رہے ہیں اس میں ہم نے خدا کے بتائے ہوئے طریق کے خلاف رسوم کو ادا نہ کیا۔تو ہمارا ناک کٹ جائے گا کیونکہ وہ اس یقین پر قائم ہوتے ہیں کہ ناک کا کٹنا یا ناک کا رکھنا محض اللہ تعالیٰ کے