خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 435
خطبات ناصر جلد اول ۴۳۵ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء حملے ہوئے تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ مغرور مت ہو۔میرے پاس خالد ہیں جو تمہارا سر توڑیں گے۔مگر اس وقت سوائے میرے کوئی خالد نہیں تھا۔صرف میں ایک شخص تھا۔چنانچہ پرانی تاریخ نکال کر دیکھ لو۔صرف میں ہی ایک شخص تھا۔جس نے آپ کی طرف سے دفاع کیا اور پیغامیوں کا مقابلہ کیا اور ان سے چالیس سال گالیاں سنیں۔لیکن باوجود اس کے کہ ایک شخص ان کی طرف سے دفاع کرنے والا تھا۔پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان میں برکت دی۔اور ہزاروں ہزار آدمی مبائعین میں آکر شامل ہو گئے۔جیسا کہ آج کا جلسہ ظاہر کر رہا ہے۔مگر یہ نہ سمجھو۔کہ اب وہ خالد نہیں ہیں اب ہماری جماعت میں اس سے زیادہ خالد موجود ہیں۔چنانچہ شمس صاحب ہیں۔مولوی ابو العطاء ہیں عبد الرحمن صاحب خادم ہیں۔یہ لوگ ایسے ہیں۔کہ جو دشمن کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور دیں گے انشاء اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ ان کی قلم میں اور ان کے کلام میں زیادہ سے زیادہ برکت دے گا۔“ اب ان تین دوستوں میں سے جنہیں اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالد قرار دیا تھا۔دو اپنے رب کو پیارے ہو چکے ہیں۔تیسرے کی زندگی اور عمر میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے اور لمبا عرصہ انہیں خدمت دین کی توفیق عطا کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے یہ مقدر کرے کہ وہ بے نفس ہو کر اور دنیا کی تمام ملونیوں سے پاک ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے وقت کو اور اپنے علم کو اور اپنی قوتوں کو خرچ کرنے والے ہوں۔دوستوں کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ جماعت میں صرف تین خالد تھے۔جن میں سے دو وفات پاچکے ہیں۔اب کیا ہو گا خدا تعالیٰ کا ہمارے ساتھ یہی طریق رہا ہے کہ جب ہم میں سے ایک شخص جاتا ہے تو ہمیں اس کی جگہ ایک نہیں ملتا۔بلکہ دو، پانچ یا دس آدمی اس کے مقابلہ میں وہ ہمیں عطا کرتا ہے۔اس کی نعمتوں کے خزانے غیر محدود ہیں اور ضرورت حقہ کے مطابق وہ اپنی قدرتوں اور اپنی طاقتوں سے اتنے آدمی پیدا کر دیتا ہے۔جتنے آدمیوں کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جماعت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بہت سے نئے خالد پیدا کرنے