خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 430 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 430

خطبات ناصر جلد اول ۴۳۰ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء تیسرا طریق ان بد اعمال کو فنا کرنے کا خدا تعالیٰ نے یہ رکھا ہے کہ وہ ان اعمال اور ان کے بجالانے والوں کو جہنم میں ڈال کر ان بداعمال کو فنا کر دیتا ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم پر ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اس میں کوئی انسانی روح نہیں رہے گی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انسان چاہے وہ کتنے ہی گنہ گار کیوں نہ ہوں۔چاہے وہ کتنے ہی خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والے کیوں نہ ہوں ان کے بد اعمال جہنم میں جا کر ایک وقت میں ہلاک اور فنا ہو جائیں گے۔کیونکہ یہ بات تو ماننے کے قابل نہیں کہ بد اعمال فنا بھی نہ ہوں اور ان کے ساتھ ایک شخص کو ایک وقت تک جہنم میں رکھا جائے اور دوسرے وقت میں اسی شخص کو انہی بد اعمال کے ساتھ جنت میں لے جایا جائے۔غرض جہنم بھی بد اعمال کی ہلاکت کا ایک ذریعہ ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ اعمال صالحہ جن سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جاتی ہے اور جنہیں فنا فی الرسول کے ذریعہ اور تقویٰ کی ان باریک راہوں پر گامزن ہو کر بجالایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے۔ان کی بقا کے بھی مختلف طریق ہیں۔ذاتی طور پر اس شخص کے اعمال جو وفات پا جاتا ہے۔جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے اس دنیا میں باقی نہیں رہتے اور اس طرح ان اعمال پر بھی اس فرد کے ساتھ ہی ایک فنا وار د ہو جاتی ہے۔لیکن جس طرح اس کی روح کو زندہ رکھا جاتا ہے۔اسی طرح ان نیک اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ اس کے لئے زندہ رکھتا ہے اور صرف زندہ ہی نہیں رکھتا بلکہ انہیں بڑھاتا رہتا ہے۔وہ ان سے بیج کا کام لیتا ہے اسی لئے جنت کی نعماء نہ ختم ہونے والی ہیں۔جیسا کہ فرمایا۔عطَاء غَيْرَ مَجْنُون (هود : ١٠٩) یعنی ان نعماء پر کبھی فناوار نہیں ہوتی وہ باقی رہتی ہیں اور باقی رہیں گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ایمان باغوں کی شکل میں اور اعمال صالحہ نہروں کی شکل میں اُخروی زندگی میں باقی رکھے جاتے ہیں۔یعنی وہ افراد جن کی روحوں کو خدا تعالیٰ نے اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کیا۔ان کی روحوں کے ساتھ ان کے اعمالِ صالحہ بھی باقی رکھے جاتے ہیں جن سے وہ ابد الآباد تک فائدہ حاصل کرتے رہیں گے۔