خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 412
خطبات ناصر جلد اول ۴۱۲ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء سے بھر سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں۔لیکن اگر ہمارے دلوں کے برتن غیر اللہ اور انوار قرآنیہ کے سوا دوسری چیزوں سے پُر ہوں تو اللہ تعالیٰ اور انوار قرآنیہ کے لئے ان میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔غرض ہم سے ( آپ جماعت کہہ لیں۔مرزا ناصر احمد کہہ لیں یا صدر انجمن احمد یہ کہہ لیں ) بہر حال غفلت ہوئی ہے اور جماعت کا ایک حصہ ست ہو گیا ہے اور باقی ساری جماعت کو اس کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں جماعت میں وقف عارضی کی تحریک کروں اور اس سلسلہ میں جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں مجھے پانچ ہزار واقف چاہئیں اور واقف بھی ایسے جو طوعاً اپنی مرضی اور خوشی سے سال میں دو ہفتے سے چھ ہفتے تک کا عرصہ دین کی خدمت کے لئے وقف کریں ورنہ اگر ضرورت اور ضرورت کا احساس اسی طرح شدت اختیار کر گیا تو شاید کوئی وقت ایسا بھی آجائے جب اس تحریک کو طوعی نہ رکھنا پڑے بلکہ اسے جبری تحریک قرار دے دیا جائے اور ہر احمدی کا یہ فرض قرار دے دیا جائے کہ وہ جس طرح اپنی آمد کا سولہواں یا دسواں حصہ دین کے لئے دیتا ہے۔اسی طرح اپنی زندگی کے ہر سال میں سے پندرہ دن یا چھ ہفتے وقف عارضی کے لئے بھی دے۔تا کہ قرآن کریم کی اشاعت صحیح رنگ میں کی جائے۔اسی طرح جماعتوں کی تربیت بھی صحیح طور پر کی جاسکے۔زمانہ بدلتا ہے۔اسی طرح حالات بھی بدلتے ہیں۔ہماری ایک جماعت کسی زمانہ میں بڑی ہی مخلص تھی۔اس میں پڑھے لکھے آدمی موجود تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ تھے اور وہ جماعت بڑی مخلص تھی۔لیکن اس وقت اس کی یہ حالت ہے کہ وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو صحابہ تھے وہ فوت ہو گئے۔پڑھے لکھے لوگ اس گاؤں کو چھوڑ کر باہر ملازمتوں کے سلسلہ میں چلے گئے۔آج وہاں ایک بھی ایسا پڑھا لکھا آدمی موجود نہیں جو آگے کھڑا ہو کر نماز ہی پڑھا سکے۔اب ایسی جماعت نے بہر حال کمزور ہونا تھا۔بڑی عجیب بات یہ ہے کہ نہ تو مربی نے اور نہ امیر ضلع نے مرکز کو کبھی توجہ دلائی کہ اس جماعت کا یہ حال ہے۔اس کی طرف توجہ کی جائے۔اگر وقف عارضی کے نتیجہ میں ہمیں اس جماعت کی حالت کا علم نہ ہوتا تو پانچ چھ سال اور گزرنے کے