خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 409 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 409

خطبات ناصر جلد اول ۴۰۹ خطبه جمعه ۲۳ رستمبر ۱۹۶۶ء فقرے نکل رہے تھے اور یہ حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور برکت سے کیا ہے نہ کہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں۔کل رات میں سوچ رہا تھا کہ مجھے جتنے واقفین چاہئیں۔اس تعداد میں واقفین مجھے نہیں ملے۔مثلاً ربوہ کی ہی جماعت ہے۔آج جو دوست میرے سامنے بیٹھے ہیں ان میں کثرت ربوہ والوں کی ہے لیکن ان میں سے بہت کم ہیں جنہوں نے وقف عارضی میں حصہ لیا ہے اور یہ بات قابل فکر ہے کہ کیوں آپ کی توجہ ان فضلوں کے جذب کرنے کی طرف نہیں ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ واقفین عارضی پر کر رہا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں رات سوچ رہا تھا کہ مجھے جتنے واقفین عارضی چاہئیں اتنے نہیں ملے حالانکہ اس کی بہت ضرورت ہے۔تو جب میں سویا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے ایک کاغذ آیا ہے اور اس کاغذ پر دو فقرے خاص طور پر ایسے تھے کہ خواب میں میری توجہ ان کی طرف مبذول ہوئی۔ان میں سے پہلا فقرہ تو میں بھول گیا لیکن اس میں ضعفاء“ کا لفظ آتا تھا۔دوسرا فقرہ ( صبح تک مجھے یاد تھا میں نے غلطی کی کہ اسے لکھا نہیں ) گو اب مجھے پوری طرح یاد نہیں لیکن اس کے بعض الفاظ مجھے یاد ہیں مثلاً اس میں ضُعَفَاءُ گُم تھا یا ضُعَفَاءُ هُمُ ( اب مجھے پوری طرح یاد نہیں ) اور اس کے آگے آسمین تھا اور مجھے خواب ہی میں خیال آیا کہ یہ لفظ غریب الفاظ میں سے ہے۔یعنی یہ لفظ روز مرہ کی عربی زبان میں استعمال نہیں ہوتا۔وہ ان معنوں میں کم ہی استعمال ہوتا ہے جن معنوں میں وہ اس فقرہ میں استعمال ہوا ہے۔اس کے ایک معنی رفعت اور علو حاصل کرنے والے کے ہیں اور ان معنوں کے لحاظ سے اس میں یہ بشارت ہے کہ جماعت میں سے جو لوگ قرآنی علوم سیکھنے کے لحاظ سے ضعیف کہلانے والے ہیں اب اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ وہ بھی علو مرتبت اور قرآن کریم کی ان رفعتوں تک پہنچنے والے ہوں گے۔جن رفعتوں تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل کیا ہے۔سو الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ بشارت دے رہا ہے لیکن ہر وہ بشارت جو آسمان سے نازل ہوتی ہے۔زمین والوں پر ایک ذمہ داری عائد کرتی ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنا ان کا فرض ہوتا ہے۔