خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 400
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۰۰ خطبہ جمعہ ۱۶ ر ستمبر ۱۹۶۶ء ہونے کے لئے ایک وقت مقدر ہے۔جب وہ وقت آئے گا تو وہ بشارت بھی ضرور پوری ہوگی۔دنیا کی کوئی طاقت اسے ٹال نہیں سکتی۔لیکن اس کے برعکس جو دل کے اندھے تھے انہیں ٹھٹھے اور ہنسی کا موقع ملتا رہا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک بڑا فرق ہے۔وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام کی بعض بڑی فتوحات حضور کی ذات سے تعلق رکھتی تھیں اور آپ کی زندگی میں مقدر تھیں لیکن ہماری فتوحات کا زمانہ جیسا کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے تین سو سال تک ممتد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نسلوں نے یکے بعد دیگرے خدا تعالیٰ ، اس کے رسول اور اسلام کے لئے قربانیاں دینی ہیں اور ہر نسل نے اللہ تعالیٰ کی بعض بشارتوں کو پورا ہوتے دیکھنا ہے۔بہر حال الہی جماعتوں کے دلوں میں شیطان وسو سے پیدا کرنے کی کوشش تو کرتا ہے لیکن منافقوں کے سوا اوروں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرنے کی اہلیت اور قابلیت نہیں رکھتا۔اس کو مومنوں پر جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کوئی غلبہ اور کوئی سلطان عطا نہیں کیا جاتا۔پس جو بشارتیں ایسے سلسلوں کو دی جاتی ہیں جنہوں نے آخری اور عظیم فتح سے پہلے کئی منزلیں طے کرنا ہوتی ہیں۔وہ بشارتیں درجہ بدرجہ اور منزل بمنزل پوری ہوتی رہتی ہیں اور مومنوں کے دلوں کی تقویت کا باعث بنتی رہتی ہیں۔چنانچہ دیکھو کہ ہمارے زمانہ میں الہام ”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“ کس شاندار طریق سے پورا ہوا کہ اس کے بعد ہمارے دلوں میں ذرہ بھر بھی شک نہیں رہ سکتا کہ وہ دیگر بشارتیں جو ہمیں دی گئی ہیں وہ بھی اپنے اپنے وقت پر پوری ہو کر رہیں گی۔فرماتا ہے کہ وہ منافق اور منکر لوگ جن کے دل روحانی طور پر بیمار ہیں اور شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ پیدا کر چکا ہے۔وہ اعتراض کرنے لگتے ہیں کہ مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا ، ہم سے دھوکا کیا گیا ہے اور جو بشارتیں ہمیں دی گئی ہیں وہ پوری ہونے والی نہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے خیالات کو دور کرنے کا ذکر سورہ تو بہ میں اس رنگ