خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 376
خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ۔کہ اگر چہ تمام انبیاء سابقین اور کتب سابقہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے نزول کی پیشگوئی کی ہے لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ تمام اقوام عالم آسانی کے ساتھ قرآن کریم پر ایمان بھی لے آئیں گی۔کیونکہ ان اقوام میں سے وہی لوگ ایمان لائیں گے۔يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ جو ان موعودہ پیشگوئیوں پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور پختہ ایمان اس شخص کا ہوتا ہے جو ( اول ) ان پیشگوئیوں کو بھول نہیں جاتا۔دیکھو ہماری اُمت مسلمہ کو بھی بہت سی پیشگوئیاں سنائی گئیں لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشگوئیوں کو یا درکھتے ہیں؟ اور کتنے ہیں جن کے ذہنوں میں وہ پیشگوئیاں مستحضر رہتی ہیں؟ بہت ہی کم ہیں !!! فرمایا وہ لوگ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ان پیشگوئیوں پر پختہ ایمان رکھتے ہیں یعنی انہیں بھولے ہوئے نہیں۔( دوم ) وہ ان پیشگوئیوں کو سچی پیشگوئیاں سمجھتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں ان کو جھوٹا نہیں قرار دیتے جیسے کہ آج کل بعض لوگ جب تنگ آجاتے ہیں اور ان سے کوئی جواب نہیں بن آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق جتنی پیشگوئیاں حدیث وغیرہ میں ہیں وہ سب جھوٹی ہیں۔ایسی کوئی پیشگوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی۔جس شخص کا ایسا خیال ہو وہ پیشگوئی سے فائدہ بھی نہیں اُٹھا سکتا۔( سوم ) ان کی غلط تاویلیں نہیں کرتے۔یہ بھی پختہ ایمان کا طبعی اور لازمی نتیجہ ہے بعض لوگ غلط تاویلیں کرنی شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ برکات سے محروم ہو جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ان پیش خبریوں کو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے متعلق پچھلی تمام کتب سماویہ نے دی تھیں۔بھلائے ہوئے نہیں۔بلکہ ان کو اپنے ذہنوں میں مستحضر رکھتے ہیں۔ان کی غلط تاویلیں نہیں کرتے ، ان کو پختہ یقین ہے کہ یہ خدا کی بات ہے اور ضرور پوری ہوکر رہے گی اور اس کے ساتھ ہی وَهُمْ عَلی صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ وہ اپنی شریعت کے مطابق جو ہم نے ان پر نازل کی دعا اور عبادت میں لگے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی نیکی اور ثواب کا حصول خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔اس لئے ہر وقت دعا میں لگے ہوئے