خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 375
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۷۵ خطبہ جمعہ ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء اور قادر و توانا کی طرف پکارے اور ان کو دعوت دے کہ اس پاک صحیفہ کو تسلیم کرو جس کے متعلق پیشگوئیاں تمہاری کتاب میں بھی کی گئی تھیں اور اس پر ایمان لاؤ تاکہ تم تمام اُن برکات سے حصہ لو جو اس کی اتباع کے نتیجہ میں تمہیں مل سکتی ہیں لیکن اپنی کتب کی پوری اتباع کے باوجود تمہیں نہیں مل سکتیں۔ام القری سے میں نے عرب مراد لی ہے اس لئے کہ ہمارے عام محاورہ میں بھی جب کبھی ملک کے دارالخلافہ کا نام لیتے ہیں تو اس سے مراد وہاں کی قوم ، وہاں کی حکومت اور وہاں کے رہنے والے شہری ہوتے ہیں۔لغوی معنی بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔کیونکہ مفردات راغب میں لکھا ہے کہ مکہ کو ام القری اس لئے کہتے ہیں کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جوز مین کو بچھایا تو اس کا مرکزی نقطہ مکہ تھا اور زمین کا وجود اس نقطۂ مرکزی کے گرد ظہور پذیر ہوا۔ہمیں لفظی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں، مجازی طور پر ہم اس کے بڑے اچھے اور صحیح معنی بھی کر سکتے ہیں اور وہی ہمیں کرنے چاہئیں بہر حال یہ تخیل پہلے سے موجود تھا کہ مکہ دنیا کے لیے ایک مرکزی نقطہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اُم القری کے لفظ سے اللہ تعالیٰ ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہم نے مکہ کو دنیا کے لئے مرکزی نقطہ بنا دیا ہے اس لیے کہ اُٹھ کے معنی میں وہ چیز جو دوسری چیز کے لئے بطور اصل کے ہو، اس کے وجود، اس کی ابتداء، اس کی تربیت اور اس کی اصلاح کے لئے۔تو فر مایا کہ اُم القری یعنی مکہ کو دنیا کی اصلاح اور تربیت کے لئے ہم مرکزی نقطہ بنار ہے ہیں۔اس لئے اے رسول! اُٹھے اور ان لوگوں کو تیار کرتا کہ وہ دنیا میں پھیلیں اور خدائے واحد کی تبلیغ کریں اور اس کے نام کا جھنڈا بلند کریں اور قرآن کریم کے نور سے دنیا کو منور کرنے کی کوشش کریں۔لِتُنذِرَ اُمَّ القُرى پہلے عرب کو تیار کرو اور وہاں استاد پیدا کرو۔وَمَنْ حَوْلَهَا پھر یہ باہر نکلیں گے اور ایک دنیا کے معلم اور راہبر بنیں گے۔تاریخ کے ورق الٹتے چلے جائیں امتِ مسلمہ کی تاریخ لِتُنْذِرَ أَمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا ہی کی کھلی تفسیر ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلَى