خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 374
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۷۴ خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء بہت سی سہولتیں ہو گئی ہیں اس لئے بہت سی چھپی ہوئی اور نا معلوم باتیں ہمارے سامنے آ رہی ہیں اور ہر نئی بات جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ قرآن کریم کی ہی تصدیق کر رہی ہوتی ہے کہ قرآن کریم کا بھیجنے والا یقینا اصدقُ الصَّادِقِين ہے۔جو بات وہ کہتا ہے بچی ہوتی ہے۔اس کے متعلق کسی کو کبھی بھی شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔علم تو بڑھ رہا ہے، اگر کبھی آئندہ کوئی شریعت (جو اس وقت انسان کے سامنے نہیں) انسان کے سامنے آجائے تو یقیناً اس میں بھی ہم پائیں گے کہ ایک عظیم الشان نبی آنے والا ہے۔پس فرمایا کہ یہ کتاب جامع ہے تمام برکات کی۔اس لئے کہ یہ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ہے۔پہلی تمام صداقتوں کی تصدیق کرتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے مطابق اس کا نزول ہوا ہے۔ہر نبی کو یہ فکر تھی کہ جو عظیم الشان نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آنے والا ہے کہیں اس کی امت غلطی سے اس کا انکار کر کے خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کا مورد نہ بن جائے اور ان سب انبیاء کو اس چیز سے دلچسپی تھی۔کیونکہ یہ کتاب (قرآن) ہر قوم کے لئے تھی اس لئے وہ ان سب قوموں کا مشترکہ روحانی مائدہ تھا اور ان سب نبیوں کی قوم نے اس سے فیوض حاصل کرنے تھے اس لئے ان سب کو فکر تھی کہ کہیں ان کی قوم اس ابدی آتشی شریعت سے محروم نہ ہو جائے اور مور د غضب الہی نہ بن جائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِتُنْذِرَ أَمَّ الْقُرى وَمَنْ حَوْلَهَا یعنی تیرے اوپر یہ فضل اس لیے کیا گیا ہے اور یہ کتاب مبارک اس لیے اُتاری گئی ہے کہ تاتو نہ صرف مکہ اور اہلِ عرب بلکہ وَمَنْ حَوْلَهَا تمام ان آبادیوں میں رہنے والی اقوام کو ڈرائے جو عرب کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں۔۔بشارت اور انذار دونوں ہی پہلو بہ پہلو چلتے ہیں کبھی اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کو کھول کر بیان کر دیتا ہے اور کبھی ایک کو بیان کر دیتا ہے اور دوسری انڈرسٹڈ (Under Stood ) ہوتی ہے۔یعنی سمجھا جاتا ہے کہ یہ بھی یہاں مذکور ہے۔اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما یا کہ یہ کتاب جو مبارک بھی ہے اور مصدق بھی ہے اس لئے تجھ پر نازل کی گئی ہے کہ تو تمام اقوام عالم کو خدائے واحد و یگانہ