خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 373 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 373

خطبات ناصر جلد اول ۳۷۳ خطبہ جمعہ ۲۶ راگست ۱۹۶۶ء طرف متوجہ نہ کیا ہو کہ جس وقت بھی اور جہاں بھی خدا کا وہ برگزیدہ رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ کی شکل میں تمہارے سامنے آئے تو اس کو قبول کر لینا۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کتاب اسے دی جائے گی وہ میری ہر کتاب (شریعت) سے بہتر اور افضل اور اعلیٰ ہوگی۔کیونکہ میری ہر پہلی کتاب میں چند برکات ہیں اور جو کتاب اسے دی جائے گی وہ مُبَارَك جامع ہوگی تمام برکات کی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جیسا کہ خود قرآن مجید نے کہا ہے دعا فرمائی اور بشارت بھی دی کہ ایسا نبی جو الکتاب اور الْحِكْمَة سکھانے والا ہو وہ مبعوث ہوگا۔اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے متواتر نبی کے بعد نبی پیدا ہوا اور ان سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشگوئی فرمائی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس گناہ سوز شریعت کی ان الفاظ میں بشارت دی کہ اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔اور اس بشارت کو موسیٰ علیہ السلام نے بار بار دہرایا تا کہ ان کی امت گمراہ نہ ہو جائے۔پھر یسعیاہ نبی نے حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لوگوں کو بشارت سنائی اور ہشیار بھی کیا۔تا کہ جب وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) پیدا ہو تو لوگ ایمان سے محروم نہ ہو جائیں۔پھر بنی اسرائیل کی شریعت کے علاوہ جو شریعتیں محفوظ ہیں یا ان کا کچھ حصہ محفوظ ہے جب ہم ان کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی بشارات موجود ہیں۔حضرت زرتشت نے بھی آپ کی بشارت دی۔ہندوؤں کی کتب میں بھی یہ بشارت پائی جاتی ہے اور بعض جگہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ایک فرزند جلیل یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی بشارت دی ہے۔تو قرآن کریم کا چودہ سو سال پہلے یہ دعویٰ کہ وہ مُصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ہے۔یعنی پہلی پیشگوئیوں کے مطابق دنیا کی طرف بھیجا گیا ہے۔خود ایک عظیم صداقت اور اس کی حقانیت پر ایک زبردست دلیل ہے۔کیونکہ نزول قرآن کے وقت بہت سی کتب سماوی ایسی تھیں جن کے متعلق کسی کو کچھ بھی پتہ نہ تھا۔لیکن اب وہ باتیں ظاہر ہو رہی ہیں اور چونکہ اب اشاعت کتب کی