خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 370
خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء کی رحمتوں کے دروازے تم پر کھولے جائیں۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا کہ قرآن کریم جامع ہے تمام برکات روحانی کا ( لیکن کتب سابقہ کے متعلق مبارك کا لفظ استعمال نہ ہو سکتا تھا ) اور اس طرح ہمیں یہ بتایا کہ پہلی امتیں اپنی پوری جدو جہد ، اپنے پورے مجاہدہ ، اپنی پوری محنت اور اپنی پوری کوشش اور ایثار اور اپنے پورے جذ بہ قربانی کے باوجود اس روحانی مقام رفعت تک نہ پہنچ سکتی تھیں جس مقام رفعت تک تم پہنچ سکتے ہو۔کیونکہ تمہیں ایک کامل کتاب دی گئی ہے جس کی اتباع کے نتیجہ میں تم کامل برکات کو حاصل کر سکتے ہو۔کامل برکات کے حصول کا امکان تمہارے لئے پیدا ہو گیا ہے۔اتنی ارفع اور اتنی اعلیٰ کتاب کے ملنے کے بعد بھی اگر تم کو تا ہی کرو اور اس طرف متوجہ نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن کر اس کی اس نعمت سے فائدہ نہ اٹھاؤ تو تمہارے جیسا بد بخت دنیا میں کوئی نہیں ہوگا۔پس فرما یا کہ یہ کتاب تمام برکات کی جامع ہے اور تمام برکات کا حصول تمہارے لئے ممکن بنادیا گیا ہے۔اس لئے اٹھو!! اور کوشش کرو اور محنت کرو اور قربانیاں دو اور ایثار دکھاؤ تا کہ تم ان تمام برکات اور فیوض کو حاصل کر سکو۔دوسرا امر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق یہاں یہ بیان فرما یا۔مُصَدِّقُ الَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ - دراصل یہ مُبَارَك کی وجہ بتائی ہے کہ یہ کتاب تمام برکات کی جامع کیوں ہے؟ اس لئے کہ پہلی کتب میں جو بھی صداقتیں پائی جاتی تھیں ان سب کو اس نے اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے بلکہ ان سے کچھ زائد بھی ہے۔اس لئے یہ مُبارک ہے۔ہر وہ برکت جو پہلی کسی کتاب کی ہدایت سے حاصل کی جاسکتی تھی وہ اس کتاب سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ ہدایت اور بنیادی صداقت جو اس کے اندر تھی اس میں بھی پائی جاتی ہے۔لیکن جو زائد چیزیں اس میں ہیں وہ پہلی کتب میں نہیں تھیں۔اس لئے ان زائد احکام پر عمل کر کے جو برکتیں تم حاصل کر سکتے ہو۔وہ لوگ جن پر پہلی کتب نازل کی گئی تھیں انہیں حاصل نہیں کر سکتے تھے۔مُصَدِّقُ الذِى بَيْنَ يَدَيْهِ " یہ قرآن پہلی کتب کی تصدیق کرتا ہے۔‘ میں جو تصدیق کا ذکر ہے اس کے متعلق یا درکھنا چاہیے کہ تصدیق کا ایک طریق قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے۔مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ