خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 345

خطبات ناصر جلد اول ۳۴۵ خطبہ جمعہ ۲۹؍جولائی ۱۹۶۶ء ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عاد کی قوم پر جو اللہ تعالیٰ کا قہر نازل ہوا تھا اس کا مختصراً مگر بڑے ہی مؤثر طریق پر بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ ایک ایسا عذاب تھا جس میں ساری قوم کو تباہ کر دیا گیا۔فَهَلْ تَرى لَهُم مِّنْ بَاقِيَةٍ کیا ان کا کوئی نشان بھی تمہارے سامنے آتا ہے؟ وہ کلیتاً صفحہ ہستی سے مٹادئے گئے۔اس لئے کہ انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ وہ رب جو ان کا پیدا کرنے والا تھا، جو اس قدر ان پر رحم کرنے والا تھا ، جو اس قدر ان پر انعام کرنے والا تھا اس کے نتیجہ میں ان پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں لیکن انہوں نے کفر اور ناشکری کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ کی بجائے شیطان کو اپنا دوست بنالیا تب ساری کی ساری قوم کو اللہ تعالیٰ نے صفحہ ہستی سے مٹادیا اور ان کا کوئی نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔اس قسم کے واقعات کا ذکر کثرت سے قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اور ایک مقصد ان کا یہ ہے کہ تا ان واقعات کو سن کر ہمارے دل خوف سے لرز اٹھیں اور ہم یہ عہد کریں کہ قرآن کریم نے جو تعلیم ہمارے سامنے رکھی ہے جس سے خدا راضی ہوتا ہے اور جس کو چھوڑ کر خدا کی ناراضگی مول لینی پڑتی ہے، ہم کبھی بھی اس تعلیم کو چھوڑیں گے نہیں بلکہ اس تعلیم کو اپنائیں گے۔اس تعلیم کو اس طرح اپنے جسموں اور روحوں میں جذب کر لیں گے جس طرح خون ہمارے اندر بہہ رہا ہے۔تا کہ خدا کا غضب کسی شکل میں بھی اور اس کی لعنت کسی صورت میں بھی ہمارے اوپر نازل نہ ہو۔پھر قرآن کریم وہ کتاب ہے جو کبھی خدا کی لعنت اور اس کے غضب سے بچنے کی دعائیں سکھاتی ہے کیونکہ شَدِیدُ الْعِقَابِ ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کا عذاب بندوں پر نازل ہو۔تو پہلی قوموں کی مثالیں دے کر ہمارے دلوں میں اپنا خوف پیدا کیا۔پھر ہمیں دعا ئیں سکھائیں کہ یہ دعائیں کرتے رہوتا کہ میر اغضب تم پر نازل نہ ہو۔سب سے بہتر اور کامل دعا تو سورۃ الفاتحہ ہی ہے جس میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الصَّالِينَ (الفاتحة: ۷) ہے یعنی جس میں خدا کی لعنت سے پناہ مانگی گئی ہے اور چونکہ خدا کی لعنت کے مورد دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک مغضوب اور ایک ضال۔اس لئے دونوں کا ذکر کر کے