خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 336 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 336

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۳۶ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء اور مایوسی چھائی ہوئی ہو گی اور سب معاملات کا فیصلہ کیا جائے گا۔اب تو یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔اسی طرح اس دنیا کے عذابوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کے قہری نشانوں کے متعلق یہ کتاب انذار سے بھری پڑی ہے اس لئے ان آیات میں قرآن کریم کا نام بطور صفت نذیر رکھا گیا ہے۔(۹) نویں صفت جو ان آیات میں بیان فرمائی گئی ہے۔وہ ہے۔فَأَعْرَضَ أَكْثَرُهُم ان میں سے اکثر اس طرف متوجہ نہیں ہوتے اور اس حسین تعلیم سے اعراض کرتے ہیں بظاہر ان الفاظ میں ہمیں کسی صفت کا اظہار معلوم نہیں ہوتا لیکن در حقیقت ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ یہ انتہائی حسین تعلیم ہے، جو اسے دیکھتا ہے مسحور ہو جاتا ہے۔یہ تعلیم دل کو موہ لیتی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی طرف کوئی حقیقتا منہ کرے، متوجہ ہو، اپنی بصارت اور بصیرت کو استعمال کرے اور پھر اس کے دل پر قرآن کے حسن کا اثر نہ ہو۔اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا جیسا کہ دوسری جگہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ان کے پاس آنکھیں تو ہیں لیکن وہ ان کو استعمال نہیں کرتے۔اگر وہ آنکھوں کا صحیح استعمال کرتے تو اس کتاب کی خوبصورتی سے ضرور مسحور ہوتے۔یہ کتاب ان کے دلوں کو موہ لیتی اور یہ اس کے عاشق بن جاتے۔لیکن أَعْرَضَ أَكْثَرُهُمْ عجیب بد قسمت ہیں اکثر انسان کہ جب ایسی حسین تعلیم ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو اپنی آنکھوں کو دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔پہلو تہی کرتے ہوئے دوسری طرف مائل ہو جاتے ہیں، ان چیزوں کی طرف جو اتنی حسین نہیں بلکہ نہایت ہی بدصورت ہیں۔تو فَاعرَضَ اكثرھم میں جہاں اعراض کرنے والوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے وہاں قرآن کریم کے حسن کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ اتنی حسین تعلیم ہے کہ اگر آنکھیں رکھنے والے اپنی آنکھوں اور بصیرت سے کام لیں تو کبھی بھی وہ اس کے عاشق ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔(۱۰) دسویں صفت قرآن کریم کی یہ بیان کی گئی ہے۔فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ کہ وہ اسے سنتے نہیں اس میں قرآن کریم کے متعلق در اصل اس حقیقت اور اس صداقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ جو بھی اسے سنتا ہے وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔