خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 329
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۲۹ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء کی تحقیق کرتے اور ہمیں ان کے مطالب کی تفاصیل پر اطلاع ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی یہ سلسلہ جاری کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آپ کے ظل اس امت میں پیدا کئے جو اپنے اپنے وقت میں وقت کی ضرورت کے مطابق قرآن کریم کے مطالب اپنے رب سے حاصل کرتے رہے اور خوب کھول کر قرآن کریم کو بیان کرتے رہے۔خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ لاکھوں اقوال جو کتب احادیث میں جمع کئے گئے ہیں وہ حقیقتاً قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔عام طور پر وہ لوگ جو علم کے لحاظ سے اور تقویٰ اور طہارت کے لحاظ سے ایک بلند مقام پر نہیں ان کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آنحضرت کا کونسا قول قرآن کریم کی کس آیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔کون سی حدیث کس آیت یا آیت کے کس ٹکڑے کی تفسیر ہے۔اس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے اشارہ فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے جو باتیں بھی نکلی ہیں وہ حقیقتا قرآن کریم کی ہی تفسیر ہیں۔قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت سے ان باتوں کا تعلق ہے۔آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں میں، آپؐ سے پیار کرنے والوں میں ، آپ سے محبت کرنے والوں میں، آپ کی اتباع کرنے والوں میں ، آپ پر جانیں قربان کرنے والوں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو آپ کی محبت میں اور آپ کے وجود میں ایک حد تک یا بہت حد تک فنا ہوئے اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق انہوں نے قرآنی علوم کو حاصل کیا اور دنیا میں پھیلایا۔تو كِتَابٌ فصّلت اینه کے ایک معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگوں کو پیدا کرتا رہے گا جن کو وہ خود قر آنی علوم سکھائے گا اور وہ لوگ قرآنی آیات کی تفاصیل بنی نوع انسان میں پھیلائیں گے اور ان تک پہنچائیں گے۔ہر دو لحاظ سے قرآن کریم کی بڑی عظمت اور بڑی شان ہے۔یعنی اس معنی کے لحاظ سے بھی کہ اختصار الفاظ کے باوجود تفصیل کافی حد تک ، تسلی بخش حد تک قرآن کریم میں پائی جاتی ہے۔اس قسم کا اجمال نہیں کہ انسان اپنے علم اور اپنی ضرورت کے مطابق جو اس سے حاصل کرنا چاہیے، حاصل نہ کر سکے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے بھی کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات کو