خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 319
خطبات ناصر جلد اول ۳۱۹ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء اس میں ہمیں یہ بتایا کہ حقیقی اور سچی عبادت جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والی اور کھینچنے والی ہے وہ اسی شخص کی ہو سکتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبادت کے کامل اور مکمل اصول بتائے گئے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی کامل رہبری فرما دی ہو۔پھر یہ بھی بیان فرما دیا کہ یہ الکتاب پہلی کتب کی طرح نہیں ، جن میں کچھ صداقتیں تو بیان کی گئی تھیں۔لیکن ساری صداقتیں بیان نہیں کی گئی تھیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ تمام صداقتوں اور تمام حقائق کو ذہنی طور پر بھی۔جسمانی نشوونما کے لحاظ سے بھی اور اخلاقی ارتقاء کے لحاظ سے بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔پس ان کی طرف کچھ صداقتیں یا یوں کہیے کہ الکتاب کا ایک حصہ نازل کیا گیا اور اگر یہ سچ ہے اور یقیناً یہی سچ ہے تو پھر ان کی عبادت اور ایک سچے مسلمان کی عبادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے کیونکہ ان کی عبادت نتیجہ ہے مثلاً بیس فی صدی ہدایت کا۔اگر انہیں کامل ہدایت ملی ہوتی تو ہم کہتے کہ ان کی عبادت سو فیصدی کامل ہدایت کے ماتحت ادا کی گئی۔مگر ایسا نہیں۔کیونکہ پہلی قوموں میں سے بعض کو کامل ہدایت کا مثلاً بیس فی صدی حصہ دیا گیا۔اس کے بعد جو لوگ ترقی کر گئے انہیں تیس فی صدی۔پھر ان کے بعد آنے والے لوگوں کو چالیس ، کسی کو پچاس اور کسی کو ساٹھ فی صدی حصہ عطا کیا گیا۔سو فیصدی ہدایت صرف اُمت مسلمہ کو عطا کی گئی۔تو جس شخص کی ، جس قوم کی ، یا جس نبی کی اُمت کی اللہ تعالیٰ نے صرف ہیں یا صرف تیس یا صرف چالیس یا صرف پچاس یا صرف ساٹھ فی صدی راہنمائی کی ہو اور اس راہنمائی کے نتیجہ میں انہوں نے اپنے رب کی عبادت کی ہو۔ان کی یہ عبادت اس عبادت کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سو فیصدی راہنمائی کے بعد ایک مسلمان بجالاتا ہے اور ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان امتوں پر اللہ تعالیٰ کے جو انعام اس دنیا میں نازل ہوئے یا آئندہ اخروی زندگی میں نازل ہوں گے وہ ان انعامات کے مقابلہ میں نہیں رکھے جاسکتے جو ایک حقیقی مسلمان پر اس دنیا میں اور پھر اخروی زندگی میں نازل ہوتے ہیں بلکہ ان انعامات سے ان انعامات کو کوئی نسبت ہی نہیں۔