خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 316
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۵ جولائی ۱۹۶۶ء قرآن کریم کا نام لاتا ہے لیکن دل سے اسے دھتکارنے والا اور پرے کرنے والا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اس آسمانی کامل اور مکمل صحیفہ کو اُتارنے والا العزیز ہے۔وہ ایسی طاقت کا مالک ہے کہ دنیا کی ساری طاقتیں اکٹھی ہو کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔وہ اس کی مخلوق ہیں۔وہ اندر اور باہر سے ان کو جاننے والا ہے۔وہ ان کی قوتوں اور استعدادوں کو اس لئے جاننے والا ہے کہ وہ خود اس کی پیدا کردہ ہیں۔تو وہ اس کے مقابلہ میں کیسے کھڑی ہوسکتی ہیں؟ اور ہمیں یہ بتایا کہ اگرتم اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی اس الکتاب پر پورا عمل کرو گے اور اس کی اطاعت اس طرح کرو گے جیسا کہ اطاعت کا حق ہے تو پھر خدائے عزیز تمہیں عزت کے بلند مقام پر کھڑا کر دے گا۔پھر فرما یا کہ جس اللہ نے یہ کتاب تمہیں بھجوائی ہے وہ صرف الْعَزِیزُ ہی نہیں۔الْحَكِيْمُ بھی ہے الْحَکیم کے معنی ” صاحب حکمت“ کے ہیں۔حِكْمَةٌ عربی زبان میں عدل، علم، حلم، فلسفہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔تو الْحَکیم کے ایک معنی یہ ہوئے کہ وہ علم رکھنے والی ہستی ہے۔اس سے زیادہ علیم کوئی نہیں۔تو اللہ تعالیٰ جس نے یہ قرآن نازل کیا ہے وہ ذات ہے جس کے علم کے مقابلہ میں ساری دنیا کے علوم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔کامل علم اس کے پاس ہے۔کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔دنیا کے ہر ظاہر و باطن پر اس کی نظر ہے۔ماضی و حال و مستقبل اس کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے کہ ایک انسان کے لئے ایک سیکنڈ کا ہزارواں حصہ جو حقیقتاً اس کے لئے حال بنتا ہے۔پس یہ وہ ذات ہے جو زمانہ سے بھی ارفع ہے۔جو مکان سے بھی بالا ہے۔اس کے علم کے مقابلہ میں کوئی علم ٹھہر نہیں سکتا۔اسی علم کے منبع سے یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔اس لئے اگر تم قرآن کریم کا غور سے مطالعہ کرو گے۔اس کو سمجھو گے ، اس کے علوم کے حصول کے لئے اپنے رب سے دعائیں کرتے رہو گے تو تمہیں وہ علوم عطا کئے جائیں گے کہ دنیا کے سارے عالم تمہارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے۔چنانچہ ابتداء زمانہ اسلام میں جو ترقی کا زمانہ ہے۔ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔مغرب