خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 315 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 315

خطبات ناصر جلد اول ۳۱۵ خطبہ جمعہ ۱۵ / جولائی ۱۹۶۶ء کرتے ہیں۔چالیس دن تک خاص طور پر تہجد میں دعا کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں اس بات کا اہل بنائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں میں سے ایک ٹکڑا تمہیں ملے۔انہوں نے دعا شروع کی اور پھر مجھے خط لکھا کہ میں دعاؤں میں مشغول ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا رہا ہوں کہ میں ایک بڑی بھاری ذمہ داری لے رہا ہوں ،صرف عزت حاصل نہیں کر رہا ، صرف تبرک حاصل نہیں کر رہا بلکہ بڑی بھاری ذمہ داری بھی لے رہا ہوں۔ایک شخص جو ہزار ہا میل دور رہتا ہے نہ کبھی ربوہ آیا ، نہ ہی تاریخ احمدیت سے پوری طرح واقف ، اس کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تبرک کی اہمیت جب تک پوری طرح بٹھا نہ دی جاتی میرے نزدیک انہیں تبرک بھیجوانا درست نہیں تھا۔اس لئے میں نے انہیں ایک لمبا سا خط لکھا اور انہیں یہی نکتہ سمجھایا کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تبرک مانگ رہے ہو۔اس میں برکتیں بھی بڑی ہیں مگر یہ بھی نہ بھولو کہ اس کی قیمت اتنی ہے کہ ساری دنیا کے سونے اور ساری دنیا کی چاندی اور ساری دنیا کے ہیرے اور جواہرات بھی اگر اس کے مقابل رکھے جائیں تو ان کی وہ قیمت نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کپڑوں میں سے ایک ٹکڑا کی قیمت ہے اس لئے تم ایک بڑی ذمہ داری لے رہے ہو۔ذہنی طور پر ، روحانی طور پر اور اخلاقی طور پر اپنے آپ کو اس کا اہل بناؤ۔یہ مضمون تھا اس خط کا جو میں نے انہیں لکھوایا اور ان سے انتظار کروایا تا کہ جب ان کی یہ روحانی پیاس اور بھڑ کے اور ان کے دل میں ذمہ داری کا پورا احساس بیدار ہو جائے اس وقت وہ تبرک ان کو بھیجا جائے۔پندرہ بیس دن ہوئے وہ تبرک ان کو بھجوایا گیا اور مجھے ابھی گھوڑ اگلی میں ان کی تارملی ہے کہ وہ تبرک مجھے مل گیا ہے۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔پس خدائے عزیز کے ساتھ تعلق رکھنے والے عزت کے ایسے مقام کو حاصل کرتے ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن قرآن کریم کی طرف منسوب ہونا اور پھر عزت کی بجائے ذلت کے مقام پر کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔ایسا شخص زبان پر تو