خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 311
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء کی بنائی ہوئی دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتے۔جب تک ہم قرآن کریم کے تمام اوامر و نواہی کی عزت نہیں کرتے۔ان کے آگے نہیں جھکتے اور جن باتوں سے ہمیں روکا گیا ہے ان سے باز نہیں آتے اور جن چیزوں کے ہمیں کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔وہ ہم بجانہیں لاتے۔اس وقت تک ہم اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کے وارث نہیں ہو سکتے۔جن فضلوں کا وارث وہ انسان ہوتا ہے جو قرآن کریم کے نور سے منور ہوتا ہے اور قرآن کریم کے احکام پر عمل کرنے والا ہوتا ہے اور قرآن کریم کا کامل متبع ہوتا ہے اور قرآن کریم کا سچا خدمت گزار ہوتا ہے۔محض احمدی کہلا نا محض احمدیت کی طرف منسوب ہونا ہمارے لئے کافی نہیں اسی لئے میں اپنے متعدد خطبات میں اس سے پہلے بھی جماعت کو اس طرف متوجہ کر چکا ہوں کہ پوری ہمت کے ساتھ اور پوری توجہ کے ساتھ قرآن کریم کے سیکھنے اور سکھانے اور اس پر عمل کرنے کا انتظام تمام جماعتوں کے اندر کیا جانا چاہیے۔بہت سی جماعتیں اس طرف پوری طرح متوجہ ہوئی ہیں لیکن بعض ایسی بھی ہیں جنہوں نے اس طرف پوری توجہ نہیں دی۔قرآن کریم کے بغیر ، قرآن کریم کی برکات کو چھوڑ کر ، قرآن کریم کے نور سے پیٹھ پھیرتے ہوئے ، قرآن کریم کو معزز نہ جان کر اپنے دلوں سے باہر نکال پھینکتے ہوئے ، ہم خدا کی نگاہ میں کوئی عزت، کوئی بلندی ،کوئی رفعت، کوئی کامیابی، کوئی کامرانی اور کوئی فتح حاصل نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں متعدد بار اس کی اہمیت کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے۔چند آیات کی تفسیر میں نے اس سے پہلے اپنے خطبات میں دوستوں کے سامنے رکھی ہے۔آج میں قرآن کریم کی دو اور آیتیں دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورہ زمر میں فرماتا ہے۔تَنْزِيلُ الكِتب مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ - إِنَّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ - (الزمر : ٢، ٣) یعنی اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب اور سب کام حکمتوں کے ماتحت کرنے والا ہے۔ہم نے تیری طرف یہ کتاب کامل سچائیوں پر مشتمل اتاری ہے۔پس تو اطاعت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کر۔