خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 310 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 310

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۱۰ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء اس کے برعکس جب انہوں نے قرآن کریم کو حرز جان بنایا اور اس کا جوا اپنی گردنوں پر رکھا قرآن کریم کے نور سے منور ہو کر اور اس کے خادم بن کر میدانِ عمل میں اترے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی ترقیات سے نوازا اور ایسی رفعتیں انہیں عطا کیں کہ دنیا کے وہ معلم اور استاد بھی بنے۔دنیا کے وہ ہادی اور راہ نما بھی ہوئے۔دنیا کے وہ محسن بھی ٹھہرے۔خدائے رزاق سے تعلق پیدا کر کے الْحَفیظ اور الْعَلِیمُ کی صفات کا مظہر بنے اور عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ انہیں مقر رکیا گیا اور زمین کی پیداوار کی تقسیم ان کے سپرد کی گئی اور ایک دنیا نے ان سے بھیک مانگی اور ایک جہان کو انہوں نے سیر کیا۔مگر ان کے دامن دنیا داروں کے سامنے کبھی نہ پھیلے، نہ وہ دنیوی طاقتوں کے سامنے کبھی جھکے، نہ ان سے مرعوب ہوئے اور نہ وہ کبھی ان کے زیرا حسان آئے۔لیکن مسلم اقوام نے جب قرآن کریم اور اس کی تعلیم کو طاق نسیان کی زینت اور قرانا مهُجُورًا بنا دیا اور اپنی ناقص اور غافل عقلوں کو آسمانی نور سے بہتر جانا تو نورعلم ، نور فراست اور نورِ فطرت ان سے چھین لیا گیا۔روحانی علوم و انوار کا تو ذکر کیا۔دنیوی علوم میں بھی انہیں غیروں سے بھیک مانگنی پڑی اور جب رزاق حقیقی سے انہوں نے اپنا رشتہ توڑ لیا تو حسنات دنیا بھی ان سے چھین لی گئیں اور ہم نے دیکھا کہ لچائی ہوئی نظروں سے وہ دنیا اور دنیا داروں کو تک رہے تھے۔پس مسلمانوں کی تاریخ ایسے حقائق سے بھری ہوئی ہے۔اس تاریخ کے بہت سے باب جہاں سنہری حروف سے لکھے نظر آتے ہیں۔وہاں وہ باب بھی تو ہمارے سامنے آتے ہیں۔جنہیں پڑھ کر ہماری گردنیں جھک جاتی ہیں۔تاریخ کے ان ابواب سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مسلم اقوام میں سے کس قوم نے کس زمانہ میں قرآن کریم اور اس کی تعلیم کو اس کا حقیقی مقام دیا اور وہ درجہ دیا جوا سے دیا جانا چاہیے تھا اور کس قوم نے کس زمانہ میں قرآن کریم اور اس کی تعلیم کو بھلا دیا اور پھر دنیا میں ان کے لئے عزت اور پناہ کا کوئی مقام بھی باقی نہ رہا۔پس جماعت احمدیہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ محض بیعت کر لینا یا محض احمدیت میں داخل ہونا یا محض احمدیت کا لیبل اپنے اوپر لگا لینا کافی نہیں جب تک ہم پورے کے پورے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں داخل نہیں ہو جاتے۔جب تک ہم اسلمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ کا صحیح نمونہ اپنے خدا اور خدا