خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 306
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۶۶ء بیان ہونے سے رہ گیا ہو اور دین و مذہب کے متعلق جتنی بھی تفصیل انسان کے لئے ضروری ہے۔وہ ساری کی ساری اس کتاب میں بیان کر دی گئی ہے۔پس اس کی اتباع اللہ تعالیٰ کی انتہائی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے۔اس کے دوسرے معنی ہیں الشرف بلند مرتبہ، رفعت اور بزرگی۔تو فرمایا کہ جو احکام شریعت قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں۔اگر تم ان کو سیکھو گے سمجھو گے اور ان پر عمل کرو گے۔تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں بلند مرتبہ اور رفعت اور بزرگی عطا کرے گا اور اتباع قرآن کے ذریعہ آسمانی (روحانی) رفعتوں کے وہ دروازے جو خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو ڈھونڈنے والوں کے لئے کھولے جاتے ہیں۔تم پر کھولے جائیں گے۔اس کے تیسرے معنی القاء کے ہیں۔تعریف اور حمد۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اتباع قرآن کے نتیجہ میں روحانی رفعتوں کو تم حاصل کر لو گے تو تمہیں تعریف اور ثناء بھی حاصل ہو جائے گی۔الثناء کا لفظ جس قسم کی تعریف کے متعلق بولا جاتا ہے۔اس میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔وہ یہ کہ کسی دوسرے کامل وجود کا ثانی بننا یعنی اس کے اخلاق کی اتباع کر کے اس کا رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرنا۔پس اس میں تو جہ دلائی گئی ہے کہ قرآن کریم نے جو تعلیم تمہارے سامنے رکھی ہے۔وہ یہی ہے کہ تم تَخَلُقُ بِأَخْلَاقِ اللہ حاصل کر سکو۔اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا مظہر بن سکو۔اور جب تم اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا مظہر بن جاؤ گے تو ہر صاحب عقل و بصیرت تمہاری تعریف ، تمہاری شناء اور تمہاری حمد کرنے پر مجبور ہوگا۔اس کے چوتھے معنی الصیت یعنی ذکر خیر کے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احکام قرآنی پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جو بزرگی اور رفعت حاصل ہوتی ہے اور بندہ خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دنیا ایسے لوگوں سے فائدہ حاصل کرتی ہے۔صرف ان کی اپنی نسل پر ہی نہیں بلکہ ایسے لوگوں کا احسان آئندہ آنے والی نسلوں پر بھی ہوتا ہے۔اس کی وجہ سے ان کا ذکر خیر باقی رہ جاتا ہے۔کیونکہ ذکر خیر صرف اسی شخص ، گروہ یا سلسلہ کا ہی قائم رکھا