خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 305 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 305

خطبات ناصر جلد اول ۳۰۵ خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۶۶ء ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم سیکھیں ، جانیں اور ہر وقت اس کی اتباع کرنے کی کوشش کریں خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جولائی ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق یہ دعویٰ فرمایا ہے۔وَمَا تَسْلُهُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكرَ لِلْعَلَمِينَ - (يوسف : ۱۰۵) کہ اے رسول! تو جو ان کفار کو تبلیغ کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کا پیغام انہیں پہنچا رہا ہے اس پر تو ان سے کوئی اجر نہیں مانگتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن کریم تمام جہانوں کے لئے سراسر شرف کا موجب ہے۔اس آیت میں قرآن کریم کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام عالمین کے لئے رحمت ہیں ( رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ ) اسی طرح قرآن کریم تمام عالمین کے لئے ذکر ہے۔ذکر عربی زبان میں مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔اس جگہ ذکر کے چار معنی چسپاں ہوتے ہیں۔اس کے پہلے معنی الْكِتَابُ فِيْهِ تَفْصِيلُ الدِّينِ وَوَضْعُ الْمِلَلِ ایسی کتاب جس میں دین کی تفاصیل اور احکام شریعت کامل طور پر بیان کئے گئے ہیں۔تو فرما یا کہ قرآن کریم ایک کامل کتاب شریعت ہے۔کوئی شرعی حکم ایسا نہیں جو اس میں