خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 300 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 300

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۴ جون ۱۹۶۶ء یا مکان میں رکھی جائے جس میں اس کی پوری حفاظت ہو سکے۔تو فرمایا کہ چونکہ حفاظت کی غرض سے اس کے معنی اور مطالب کو چھپایا گیا ہے۔پردہ میں رکھا ہوا ہے ان کو حاصل کرنے کے لئے تمہیں ان پر دوں کو اٹھانا پڑے گا، دل کے پردوں کو بھی اور دیگر قسم کے جو ہزاروں حجابات ہیں ان کو بھی۔اگر تم ان پردوں کو اُٹھاؤ گے کوشش کرو گے، محنت کرو گے تو چھپی ہوئی چیز کو نکال لاؤ گے جیسے کہ کانوں میں چھپے ہوئے جواہر بڑی محنت سے نکالے جاتے ہیں یا سمندر کی تہ میں چھپے ہوئے موتی بڑا گہرا غوطہ لگا کر نکالے جاتے ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کتاب اور اس کے مطالب اس قابل تھے کہ انہیں ہر لحاظ سے محفوظ رکھا جاتا۔اس مطلب کی خاطر ہم نے بہت سے پردے اس کے گرد ڈال دیئے ہوئے ہیں۔اگر تم ان مطالب اور معارف تک پہنچنا چاہتے ہو تو تمہیں مجاہدہ سے کام لینا پڑے گا ، کوشش کرنی پڑے گی۔تب وہ خدائے رحیم تمہاری محنت اور مجاہدہ کا نتیجہ نکالے گا اور ایک حد تک تم قرآن کے حقائق حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ویسے صفت رحیم اور رحمن پہلو بہ پہلو چلتی ہیں ان کو علیحدہ کر کے صحیح تصور ہمارے دماغ میں نہیں آسکتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کتاب مکنون ہے اس لئے میری صفت رحیمیت سے برکت حاصل کرو اور پوری جد و جہد قرآن کریم کے سیکھنے میں لگا دو اور پوری طرح اس کتاب کریم اور مطہر صحیفہ کی طرف متوجہ ہو۔اس کے سیکھنے کے بغیر کوئی لحہ نہ گزارو اور نہ ہی کوئی دقیقہ فروگذاشت کرو، ہر وقت اس کے متعلق سوچتے رہو۔تب تمہاری کوششوں کا نتیجہ نکلے گا اور رحیمیت اپنے جوش میں آئے گی۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خالی رحمیت کافی نہیں۔خالی مجاہدہ اور کوشش سے کچھ نہیں بنے گا۔ظاہری کوششوں سے تم صرف چھلکا ہی حاصل کر سکو گے اگر کوئی عیسائی اپنا وقت خرچ کرے اور عربی سیکھنے کی کوشش کرے اور پھر تمام قرآن کریم کی وہ تفاسیر جو عربی زبان میں لکھی گئی ہیں اور وہ تفاسیر جو اردو زبان میں لکھی گئی ہیں پڑھ کر بظاہر ان کے مضامین پر حاوی ہو جائے ، تو اس علم کی وجہ سے وہ خود بھی قرآن کریم کی تفسیر کر سکے گا۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کی جو تفسیر براہین احمدیہ میں تحریر فرمائی ہے۔وہ بھی اسے پڑھ کر بیان کر سکتا ہے۔لیکن اس کے لئے یہ