خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 291
خطبات ناصر جلد اول ۲۹۱ خطبہ جمعہ ۱۷ جون ۱۹۶۶ء اور آپ کی جماعت کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو گند اچھالا جاتا ہے برداشت کرنا پڑتا ہے پھر ان پاک وجودوں کے متعلق ( جنہوں نے طفیلی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور حاصل کیا ) جو گندہ دھنی کی جاتی ہے وہ بھی جماعت کو سنا پڑتی ہے اور یہ دکھ انہیں سہنا پڑتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں جماعت احمدیہ کو خاص طور پر تاکیدی حکم دیا ہے اور وصیت کی ہے کہ جب تم اس قسم کی گالیاں سنو اور تحقیر آمیز باتیں تمہارے کانوں میں پڑیں اس وقت تم اس طرف متوجہ ہی نہ ہو بلکہ صبر اور تقویٰ سے کام لیتے ہوئے اعمالِ صالحہ میں مشغول رہو۔اپنے راستہ پر گامزن رہو۔ان تیروں کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو بلکہ اپنی نگاہ اپنے مقصود کی طرف لگائے رکھو۔تمہارا مقصود صرف خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے اس سے نہ ہٹو اور خدا تعالیٰ کے حکم کو یاد رکھو کہ صبر سے کام لو۔صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے جو احکام اور اوامر شریعت حقہ میں پائے جاتے ہیں اپنے آپ کو ان اوامر پر مضبوطی سے قائم رکھیں اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کو بجالا کر اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔صبر کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ جن نواہی سے اس نے روکا ہے ہم اپنے آپ کو ان کے قریب بھی نہ جانے دیں تا اللہ تعالیٰ کا غضب ہم پر نہ بھر کے۔پس اگر اس طرح ہم تقوی اختیار کریں گے، اگر ہم خدا کی پناہ میں آجائیں گے، اگر ہم اس کو اپنی ڈھال بنالیں گے تو پھر دشمن کا کوئی وار ہمیں نقصان نہ پہنچا سکے گا۔جیسے کہ مال اور جان کی قربانی ہمیں دینی ہے، جذبات کی قربانی بھی ہمیں دینی ہوگی۔یہ خدا تعالیٰ کا امتحان ہے جو وہ لیا کرتا ہے اس سے ہم مومن ہو کر بیچ نہیں سکتے ہمیں اموال کی قربانی دینی پڑے گی اور اگر موقع ہوا تو جانوں کی قربانی بھی دینی پڑے گی اور اگر موقع ہوا تو جذبات کی قربانی بھی دینی پڑے گی۔پس اس زمانہ میں خدا تعالیٰ جذبات کی قربانی بھی لینا چاہتا ہے اور لے رہا ہے یہ ہمارے حملہ آور مخالف جو کبھی ہمارے اموال پر حملہ کرتے ہیں کبھی ہماری جانوں پر حملہ کرتے ہیں اور کبھی ہماری عزتوں پر اور کبھی ہمارے پیاروں کے عزتوں پر حملہ کرتے ہیں۔اگر ہم خدا تعالی کی پناہ میں نہ ہوں ، اگر وہ ہماری ڈھال نہ بنے تو بے شک ہمیں ہر قسم کا نقصان پہنچاسکتے ہیں۔پس اگر ہم