خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 290 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 290

خطبات ناصر جلد اول ۲۹۰ خطبہ جمعہ ۱۷ جون ۱۹۶۶ء فناء في نُورِ رَبِّهِ " کا مقام حاصل کیا اور اس نور میں گم ہو کر آپ کامل اور مجسم نور بن گئے اور ان عالمین ( زمین اور آسمان ) میں جہاں بھی جونور نظر آتا ہے وہ آپ کے طفیل ہی ہے۔یہ صحیح ہے کہ حقیقی نور اللہ کی ذات ہے اللهُ نُورُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس دنیا میں اس نور محسن نے اپنے نور کی جو تقسیم کی ہے وہ محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل کی ہے۔ہر نور جو ہمیں نظر آتا ہے وہ محد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی نظر آتا ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات نہ ہوتی تو دنیا میں کسی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے نور سے حصہ نہ ملتا بلکہ دنیا پیدا ہی نہ ہوتی۔اس لئے ہر ظلمت جو اٹھتی ہے اس کا پہلا نشانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ لوگ ان ایذا رسانیوں سے حصہ لیتے ہیں۔جنہوں نے طفیلی طور پر اور ظلی اور انعکاسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے حصہ لیا ہوتا ہے ایسے پاک وجود جو اُمت محمدیہ میں اس نور سے طفیلی طور پر حصہ لینے والے ہیں وہ طفیلی طور پر ایڈ ء رسانی سے بھی حصہ لینے والے ہیں۔اسی لئے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جہان میں سب سے زیادہ گالیاں دی گئیں سب سے زیادہ تحقیر کے ساتھ آپ کا نام لیا گیا، سب سے زیادہ گند آپ کے خلاف اچھالا گیا سب سے زیادہ گندی تحریریں اور بد بودار باتیں اس نور مجسم کے خلاف لکھی گئیں ، وہاں اُمت محمدیہ کے دوسرے پاک وجودوں کے متعلق بھی بہت زیادہ گند اچھالا گیا۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی نہج پر حمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور میں گم ہو گئے اور اس میں فنا ہو کر قرب تام حاصل کر لیا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی نے سب سے زیادہ تحقیر آمیز اور گندی باتیں مخالفین سے سنیں تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود ہے۔پھر وہ جنہوں نے اپنے اپنے ظرف کے مطابق طفیلی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نور حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلفاء کو بھی طفیلی رنگ میں آدمی کثیرا سننا پڑتا ہے